وہاڑی (ایچ آراین ڈبلیو)وہاڑی چڑیا گھر ایک بار پھر افسران کی سنگین نااہلی، مجرمانہ غفلت اور بدانتظامی کی بدترین مثال بن گیا، جہاں حاملہ انڈی نایاب نسل کی چیتل ہرنی بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے رات بھر تڑپ تڑپ کر جانبحق ہو گئی، اور اس کے پیٹ میں موجود بچے بھی مر گئے۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے وقت چڑیا گھر کے ذمہ دار افسران اور عملہ موجود نہیں تھے۔ ویٹنری ڈاکٹر واسف گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل غیر حاضر ہیں، جبکہ اسٹنٹ چیف وائلڈ لائف افیسر مہر کلیم سرفراز بھی اپنی مرضی سے ڈیوٹی پر آتے ہیں۔
چڑیا گھر انتظامیہ واقعہ کو چھپانے کی کوشش میں مصروف ہے اور ابھی تک جانبحق ہرنی کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا گیا۔ شہری حلقوں نے اسے اختیارات کا ناجائز استعمال اور ڈیوٹی سے مجرمانہ لاپرواہی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غیر ذمہ دار اور نااہل افسران کو فوری طور پر معطل کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
چڑیا گھر انتظامیہ نے اس واقعے پر موقف دینے سے انکار کر دیا اور دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا، جبکہ افسران و عملہ کے دفاتر میں تالے پڑے ہوئے ہیں۔ شہری حلقوں نے کہا کہ انتظامیہ کی خاموشی اور عدم جوابدہی ان کی کارکردگی کو مشکوک بنا رہی ہے، اور اس پر فوری نوٹس لینا ناگزیر ہے۔


