**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی عبدالعزیز میمن کی ضبط شدہ جائیدادیں ریلیز کرنے سے متعلق اپیل پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے جائیدادوں کے خریدار اعجاز علی کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں درج ذیل اہم نکات بیان کیے ہیں:
* **ضبطی کا حکم:** احتساب عدالت نے 2002 میں آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں عبدالعزیز میمن کی پراپرٹیز ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔
* **خریداری میں تاخیر:** درخواست گزار اعجاز علی نے یہ جائیدادیں (بنگلہ نمبر 15 خیابانِ شمشیر اور پلاٹ نمبر اے 21، کے ڈی اے اسکیم ون) 2009 میں خریدیں، جو کہ عدالت کی جانب سے ضبطی کے حکم کے سات سال بعد کی گئی کارروائی ہے۔
* **قانونی سقم:** درخواست گزار کا موقف تھا کہ اس نے یہ جائیدادیں سول کورٹ کی ڈگری کے بعد خریدیں، تاہم ہائیکورٹ نے نوٹ کیا کہ سول کورٹ کی کارروائی میں نیب کو فریق ہی نہیں بنایا گیا تھا۔
* **سزا کی توثیق:** عدالت نے واضح کیا کہ ملزم عبدالعزیز میمن کی سزا کے خلاف اپیلیں سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ پہلے ہی مسترد کر چکی ہیں۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کے وکیل ٹرائل کورٹ کے آرڈر میں کسی بھی قانونی خامی کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے ہیں، لہٰذا جائیدادوں کو واگزار کرنے کی استدعا منظور نہیں کی جا سکتی۔
—
**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آراین ڈبلیو پر ہم عدالتی فیصلوں اور عوامی معاملات کی شفاف رپورٹنگ کے لیے پرعزم ہیں۔ آپ کا تعاون ہمیں بے باک صحافت جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ آج ہی [hrnw.com/support-us](https://www.google.com/search?q=https://hrnw.com/support-us) پر جا کر ہماری حمایت کریں۔


