حکیم سعید نے مصر اور بغداد کی طرز پر ”مدینتہ الحکمہ“ قائم کرکے تاریخی کارنامہ انجام دیا،حکیم عبدالحنان

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ہمدرد یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان نے کہا ہے کہ اگرچہ حکیم محمد سعید نے قاہرہ کے جامعہ الازہر اور بغداد کے اصل بیت الحکمہ جیسے تاریخی مسلم اداروں سے تحریک حاصل کی لیکن آخر کار انہوں نے پاکستان کے شہر کراچی میں علم و ثقافت کا شہر(مدینتہ الحکمہ)آباد کرکے مسلمان اسکالرز کی تاریخ میں اپنا نام درج کرادیا۔ انہوں نے یہ بات منگل کو ہمدرد یونیورسٹی کے بانی حکیم محمد سعید کے 106ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر چانسلر محترمہ سعدیہ راشد (ہلال امتیاز)، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران امین،رجسٹرار کلیم احمد غیاث، پروفیسر ڈاکٹر احسنہ ڈار فاروق،پروفیسرڈاکٹر عالیہ ناصر تمام ڈینز، ڈائریکٹرز،اساتذہ، طلبہ و طالبات اور عملے کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران امین،بیت الحکمہ لائبریری کی ڈائریکٹر پروفیسر ملاحت کلیم شیروانی اور ہمدرد میڈیکل کالج کے پروفیسر عدنان انورنے خطاب کیا۔ تقریب کی نظامت براڈ کاسٹر و صحافی منصور معطر صدیقی نے کی۔ پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان نے واضح کیا کہ مدینتہ الحکمہ کے قیام کا مقصد کبھی بھی منافع کمانے کے منصوبے کے بطور نہیں رہابلکہ یہ ایک پروجیکٹ کے طور پر بچوں،نو عمر واور نوجوان بالغوں کے لئے سیکھنے کا بھرپور ماحول فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم صاحب کے لئے پیسہ کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مدینتہ الحکمہ میں سندھ و بلوچستان کے پسماندہ بچوں کے لئے ایک اسکول (ہمدرد ویلیج اسکول) ہمدرد کالجز،اعلیٰ تعلیم ایک ادارہ (ہمدرد یونیورسٹی)اور اسکالرز ہاؤس شامل ہے۔ جہاں فلسفی اور ماہر تعلیم رہ سکتے ہیں اور تحقیق کر سکتے ہیں۔ہمدرد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران امین نے کہا کہ حکیم سعید نے ان تمام طلبہ کو متاثر کیا جن سے وہ براہِ راست ملے۔ انہوں نے کہا کہ ”جنریشن زی“ کے طلبہ توانائی اور ذہانت کے مالک ہوتے ہیں تاہم انہیں سہی سمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسے صرف حکیم سعید جیسی شخصیات کے خیالات اور عمل فراہم کرسکتے ہیں۔ ڈائریکٹر بیت الحکمہ لائبریری ملاحت کلیم شیروانی نے حکیم سعیدکے مختلف انٹرویوز کے اقتباسات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکیم سعید نے مغربی تعلیمی نظام کو ناکارہ قرار دیتے ہوئے اس ناقص قرار دیااور کہا کہ اسے اصلاح کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر اس کی مذہب سے لا تعلقی اور مناسب پرورش و تربیت کی کمی اصل وجہ ہے۔ انہوں نے حکیم سعید کے ایک انٹر ویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جس میں انہوں نے اس نظام کو ”اسلامی طریقہ تعلیم اور خود طرزِ زندگی کے خلاف ایک سازش قرار دیا“حکیم سعید نے دیکھا کہ دشمن نے مسلمانوں کی تعلیم اور صحت دونوں کو نشانہ بنایا ہے۔ حکیم سعید نے کہا تھا ”تعلیم صحت ہے اور صحت تعلیم ہے“۔ انہوں نے کہا کہ مناسب تعلیم کے بغیر معاشرے کی صحت کبھی بہتر نہیں ہوسکتی۔ ہمدرد پبلک اسکول کے سابق المنائی اور ہمدرد میڈیکل کالج کے پروفیسر عدنان انور نے اپنے خطاب میں بانی وچانسلر حکیم محمد سعید کی شخصیت، علم دوستی اور طب کے میدان میں ان کی تاریخی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکیم سعید نے اسکول کے طلبہ پر زور دیتے تھے کے وہ ڈاکٹر یا انجینئر کے طور پر کیریئر کے خواہش مند ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بنیں۔ منصور معطر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حکیم سعید نے اپنی زندگی میں 50لاکھ سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا۔ بعد ازاں یونیورسٹی کی چانسلر محترمہ سعدیہ راشد اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران امین نے مقررین کو سوینئرز پیش کئے۔ اس سے قبل مدینتہ الحکمہ میں واقع بلاول اسٹیڈیم میں سالانہ فوڈ فیئر 2026کا انعقاد ہوا جس کی مہمان خصوصی لمبلیس فاؤنڈیشن پاکستان کی سی ای او محترمہ قدسیہ اکبر تھیں۔ان کے ہمراہ ہمدرد فاؤنڈیشن کی صدر محترمہ سعدیہ راشد، فاطمہ الزہرہ،فیصل ندیم،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران امین،ایڈمنسٹریٹر خالد نسیم اور دیگر موجود تھے۔ فوڈ فیئر کا اہتمام ہمدرد پبلک اور ہمدرد ویلیج اسکول نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں