سرسید یونیورسٹی میں ممتازاسکالروسنینئرعلیگ ڈاکٹرشہیرخان کےاعزاز میں پروقار تقریب

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام امریکہ کے معروف سائنسدان اور سینیئر علیگ ڈاکٹر شہیر خان کے اعزاز میں ایک شاندار استقبالیہ کا انعقاد کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شہیر خان نے کہا کہ امریکہ میں ابراہام لنکن جس وقت سیاہ فام باشندوں کو غلامی سے نجات دلانے اور ان کے لئے انسانی حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کررہے تھے، عین اس وقت سرسید احمد خان برصغیر میں مسلمانوں کو ذہنی غلامی اور معاشی پسماندگی سے نکالنے کے لیے تحریک علیگڑھ چلا رہے تھے۔تحریک علیگڑھ مسلمانوں کو محض سائنٹیفک تعلیم کی طرف راغب کرنے کی تحریک نہیں تھی، بلکہ برصغیر اور دیگر ممالک میں سیاسی شعور بیدارا کرنے میں بھی اس تحریک نے بہت اہم و موثر کردار ادا کیا۔ یہ بات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی المنائی نادرن کیلفورنیا کے رہنما ڈاکٹر شہیر خان نے سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے ایک استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ڈاکٹر شہیر خان نے مزید کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم عالمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقی کی رفتار سے ہم آہنگ ہوکر چلیں اور تعلیم کو اولین ترجیح دیں۔ ڈاکٹر شہیرخان امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں قابل اور مستحق طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہیں، جہاں فنڈز براہِ راست اداروں کو منتقل کیے جاتے ہیں تاکہ طلبہ بلا امتیاز اور بلا تعطل تعلیم حاصل کر سکیں۔

انہوں نے اس مقصد کی تکمیل کے لیے مزید تنظیموں اور انجمنوں کے قیام پر زور دیا اور اپنی مکمل رہنمائی و تعاون کی پیشکش بھی کی۔ ڈاکٹر شہیر خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایک سوشل میڈیا گروپ تشکیل دیا ہے جس کے دنیا بھر میں 38 ہزار سے زائد ممبران ہیں، جبکہ اس ضمن میں سر سید احمد خان اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے متعلق کئی ویب سائٹس بھی قائم کی گئی ہیں۔

مرحوم انجینئر محمد ذاکر علی خان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر شہیر نے کہا کہ انہوں نے علیگڑھ کی ثقافت اور روایات کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا اور ان کی مشہور کتاب روایاتِ علیگڑھ کو ہندی زبان میں شائع کردیا گیا ہے جس کے لیے ریختہ فاؤنڈیشن تعریف کی مستحق ہے۔

سر سید یونیورسٹی کے چانسلر محمد اکبر علی خان نے اس موقع پر کہا کہ ٹیکنالوجی برق رفتاری سے ترقی کر رہی ہے اور ہمیں نصاب اور سہولیات کو ان تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے سفر میں المنائی کا نیٹ ورک نہایت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ان کے تجربات اور تعاون طلبہ کو جدید مہارتیں اور سہولیات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرسید یونیورسٹی کو حکومت سے کوئی گرانٹ نہیں ملتی بلکہ جامعہ کا انفراسٹرکچر اور ترقی نجی فنڈنگ کے کی مرہونِ منت ہے۔اس ضمن میں المنائی کا تعاون بہت اہمیت رکھتا ہے اور المنائی جامعہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ذاکر علی خان فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن، محترمہ ارم اکبر علی خان نے کہا کہ انجینئر ذاکر علی خان کو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے پہلا سر سید احمد خان انٹرنیشنل ایوارڈ برائے ادب دیا گیا، جو ان کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاکر علی خان پہلے مصنف ہیں جن کے کام کو ہندی زبان میں ترجمہ کیا گیا، جس نے ثقافتی اور لسانی فاصلے کم کر کے ہماری وراثت کو مزید اجاگر کیا۔

تقریب کی نظامت کے فرائض طارق سبزواری نے انجام دئے جبکہ سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر افضل حق، رجسٹرار کموڈور (ر) سید سرفراز علی، ڈاکٹر نسیم، فضل نور، ڈاکٹر عبدالمعید خان، ڈاکٹر کاشف شیخ، محسن کاظم، انجینئر عادل عثمان، مختار نقوی، مسعود عالم، سرفراز ناتھا، نوشابہ صدیقی اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں