سانگھڑ(ایچ آراین ڈبلیو)– دیہی خواتین کے عالمی دن 2025 کے موقع پر، خوراک و زراعت کا عالمی ادارہ (ایف اے او) نے سندھ کے ضلع سانگھڑ کہ گاٶن علی محمد قمبرانی تحصیل سنجھورو میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا، جس میں علاقے کی دیہی کسانوں نے شرکت کی۔ “دیہی خواتین کا عروج: بیجنگ +30 کے ساتھ مضبوط مستقبل کی تعمیر” کے موضوع کے تحت منعقد ہونے والی اس تقریب میں زراعت، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت اور پائیدار ترقی میں دیہی خواتین کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔
اس تقریب میں خواتین کسانوں نے پُراثر تاثرات پیش کیے، جنہوں نے موسمیاتی لحاظ سے مضبوط زرعی طریقوں میں اپنی کامیابیوں اور تجربات کو شیئر کیا۔ مرد کسانوں نے بھی اس موقع پر بتایا کہ وہ کس طرح خواتین کو صنفی مساوات کے فروغ میں مدد فراہم کر رہے ہیں. ایک اہم سرگرمی میں مرد کسانوں نے روایتی طور پر خواتین کی جانب سے کیے جانے والے کاموں (جیسے آبپاشی، خوراک کی حفاظت اور بچوں کی دیکھ بھال) کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی، جس سے گھر اور کھیت میں ان کے اکثر نظر انداز ہونے والے کاموں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
تقریب میں لگائی گئی نمائش میں مقامی طور پر اُگائی گئی موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی فصلوں اور دستکاری کی مصنوعات بھی پیش کی گئیں، جو دیہی خواتین کی مہارت اور کاروباری صلاحیتوں کا ثبوت تھیں۔ تقریب کا اختتام ایک اجتماعی عہد نامے کی تقریب سے ہوا، جہاں مرد اور خواتین کسانوں نے خشک سالی برداشت کرنے والے پودے لگا کر موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور خاندانی بہبود کی ذمہ داری کا اظہار کیا۔
یہ تقریب ” ٹرانسفارمنگ انڈس بیسن وِد کلائمٹ ریزیلینٹ ایگریکلچر اینڈ واٹر مینجمنٹ” نامی منصوبے کا حصہ تھی، جس نے صنفی مساوات، زرعی استحکام اور موسمیاتی اقدامات کے درمیان گہرے تعلق کو واضح کیا۔


