کراچی(ایچ آراین ڈبلیو ) ٹاؤن میونسپل کارپوریشن نیو کراچی کی منتخب کونسل کا تیرہواں باضابطہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک، حدیث اورنعتِ رسول ﷺسے کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت وائس چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن شعیب بن ظہیر نے کی۔ اجلاس میں مختلف قراردادیں پیش کی گئیں جنہیں بحث ومباحثےکے بعد متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔کونسل ممبر شگفتہ انیس نے قرارداد پیش کی کہ سرکاری اسکولوں کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے،لہٰذا ان اسکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلایا جائے۔ قرارداد کے مطابق غریب اورمستحق طلبہ کےلیےمفت تعلیم وتربیت کا سلسلہ برقرار رہے گا جبکہ سندھ حکومت کی تعلیمی پالیسی لاگو ہوگی اور ان اداروں کا انتظامی کنٹرول ٹاؤن کےپاس ہوگا۔اس اقدام سےصحت، تعلیم اور ماحول میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔کونسل ممبر حنظلہ انور قریشی نے قرارداد پیش کی کہ ٹاؤن ٹیکس وصولی کےطریقہ کارمیں تبدیلی لائی جائے اور اس مقصد کے لیے قانون میں ترمیم کی جائے۔ ساتھ ہی ٹیکس وصولی کو آن لائن نظام سے منسلک کرنے کی بھی منظوری دینے کا مطالبہ کیا گیا۔کونسل ممبر اویس عیسیٰ نے ملازمین کی حاضری اور کارکردگی بہتربنانےکےلیےبائیومیٹرک مشینیں نصب کرنےکی قرارداد پیش کی جسےمتفقہ حمایت حاصل ہوئی۔کونسل ممبر عمران فقیر نے اپنی قرارداد میں تجویز دی کہ نیو کراچی ٹاؤن کی ملازم پڑھی لکھی خواتین کو ان کی اہلیت کے مطابق تبادلہ و تقرری کی جائے بالخصوص اسکولوں میں ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جائے۔کونسل ممبر عمران شفیق نے قرارداد پیش کی کہ ٹاؤن ٹیکس کی وصولی کے لیے تھرڈ پارٹی آپشن استعمال کیا جائے تاکہ شفافیت کے ساتھ ٹاؤن کی آمدنی میں اضافہ ہو۔اجلاس میں کے۔الیکٹرک کے رویے کی بھی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ شیڈول لوڈشیڈنگ کے علاوہ غیر اعلانیہ بجلی بندش عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کر رہی ہے۔آخر میں تمام قراردادوں کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ آج تمام قراردادیں اپوزیشن کے تعاون سے منظور ہوئیں۔ نیو کراچی ٹاؤن میں طویل عرصے سے ترقیاتی کام تعطل کا شکار ہیں جس کے باعث ٹاؤن کی حالت خستہ ہے، تاہم حکومت اور اپوزیشن کے باہمی تعاون سے ٹاؤن کی صورتحال میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔شعیب بن ظہیر نے مزید کہا کہ ٹاؤن میں ترقیاتی کام زور و شور سے جاری ہیں لیکن واٹر بورڈ کی ناقص کارکردگی مسائل میں اضافہ کر رہی ہے۔ پانی اور سیوریج لائنوں کی لیکج کے باعث سڑکوں اور پیور بلاک کی تنصیب کے بعد بھی عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام پیور بلاکس کی تنصیب جو 600 گلیوں میں ہونی ہے 90 روز میں مکمل کر لی جائے گی۔


