کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)شہر کی سیاسی فضا ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی کا شکار ہو گئی ہے، جہاں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیاں مخالفین کو کھٹکنے لگیں۔ فنکشنل مسلم لیگ کے مختلف دفاتر پر حملوں اور شدید فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 10 کارکن زخمی ہو گئے، جبکہ پولیس پر جانبداری اور کاسہ لیسی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
فنکشنل لیگ ہاؤس کلفٹن میں ہونے والی ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکریٹری جنرل سردار عبدالرحیم نے شہر اور صوبے کی موجودہ صورتحال پر نہایت سخت، دوٹوک اور جارحانہ مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں اس وقت انتقامی سیاست اپنے عروج پر ہے اور فنکشنل لیگ کے خلاف منظم کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
سردارعبدالرحیم کاکہنا تھا کہ فنکشنل لیگ میں عوام کی شمولیت میں تیزی سےاضافہ ہورہا ہے،جس سے ان کے بقول “فارم 47 کی پارٹیوں” میں بے چینی پھیل چکی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان فنکشنل لیگ کے دفاتر اور کارکنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ایک ہفتہ قبل سرجانی ٹاؤن میں فنکشنل لیگ کے دفتر پر مسلح افراد نے حملہ کیا، جس کے بعد قیامِ امن کے لیے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار سے رابطہ بھی کیا گیا، تاہم معاملات حل نہ ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات بلدیہ ٹاؤن میں دفتر کھولنے کے دوران فنکشنل لیگ کے کارکنوں پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں 10 کارکن زخمی ہو گئے۔ سردار عبدالرحیم نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ زخمی کارکنوں کو اسپتال سے ہی حراست میں لے لیا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کر دیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد ایم کیو ایم کے رہنما انیس قائم خانی سے بھی بات چیت کی گئی تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے، لیکن اس کے باوجود پولیس نے الٹا فنکشنل لیگ کے کارکنوں پر ایف آئی آر درج کر دی۔ انہوں نے پولیس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زخمی افراد کو گرفتار کرنا کھلی ناانصافی اور سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔
سردار عبدالرحیم نے پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتیں مل کر شہر میں کشیدگی پیدا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کے باعث فرسٹریشن کا شکار ہے اور اسی وجہ سے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر فنکشنل لیگ کے کارکنان فائرنگ میں ملوث تھے تو پھر زخمی بھی وہی کیوں ہوئے؟ یہ بات کسی طور سمجھ میں نہیں آتی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فنکشنل لیگ کے دفاتر پر حملے اور کارکنوں کو زخمی کرنے والے ملزمان کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے اور انہیں گرفتار کیا جائے۔ سردار عبدالرحیم نے بتایا کہ اسی نوعیت کے واقعات سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی ہو رہے ہیں، خصوصاً ضلع نوشہرو فیروز کے علاقے دریا خان مری میں، جہاں ان کے ساتھیوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امن و امان کو ترجیح نہ دی گئی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے اور اب سازش کے تحت مزید لڑائی جھگڑے کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام حکمرانوں سے مایوس ہو چکی ہے، سندھ کے وسائل پر قبضہ کیا گیا اور لوگوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔
پریس کانفرنس میں فنکشنل لیگ کے رہنما انور عظیم، ارمان فیاض، جمشید خان، ولی وارثی، اسامہ جعفری، شاہین خان، ایڈووکیٹ نوید شاہ، نوری یونس اسلم خان، ریاض بنگش سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ جھوٹے مقدمات میں گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے اور شہر میں امن و امان بحال کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ اقدامات کیے جائیں۔


