کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ضلع ملیر میں مبینہ کرپشن اور انتظامی ڈھانچے میں اختیارات کے استعمال سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ مختلف سرکاری عہدوں کی بیک وقت ذمہ داریوں پر بھی بحث جاری ہے۔ذرائع اور مقامی حلقوں کے مطابق ڈپٹی کمشنر ملیر کے دفتر میں آفس سپرنٹنڈنٹ کے مبینہ طور پر زیادہ بااختیار ہونے اور مختلف محکموں میں بیک وقت ذمہ داریاں ادا کرنے کے معاملات سامنے آئے ہیں۔
تفصیلات کےمطابق متعلقہ افسرپرالزام ہے کہ وہ بیک وقت ڈپٹی کمشنر آفس کے انتظامی امور، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (SSWMB) میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبے میں گریڈ 18 کی ذمہ داری بھی انجام دے رہا ہے۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تقرریوں اور اختیارات کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا یہ ذمہ داریاں کس قانون کے تحت دی گئی ہیں اور کیا ایک ہی شخص کے پاس متعدد اہم عہدوں کا ہونا انتظامی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق ضلع میں گریڈ 18 کے افسران کی موجودگی کے باوجود بعض انتظامی فیصلوں اور اختیارات کے استعمال پر بھی بحث کی جا رہی ہے۔حکام کی جانب سے تاحال ان الزامات اور سوالات پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ مقامی حلقوں میں اس معاملے پر مزید وضاحت اور شفافیت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔


