کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)اہلسنت والجماعت کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام مرکز اہلسنت کراچی، جامع مسجد صدیق اکبرؓ ناگن چورنگی کے باہر ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ اس احتجاج میں علماء کرام، کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیلی بربریت کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے پرزور نعرے بازی کی اور فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔اس موقع پر مرکزی صدر اہلسنت والجماعت پاکستان علامہ اورنگزیب فاروقی، قائد کراچی مولانا رب نواز حنفی، مولانا تاج محمد حنفی، مولانا سید محی الدین شاہ الحسینی، مولانا عبدالرافع شاہ بخاری، ترجمان کراچی مولانا عمر معاویہ، مولانا حمید سعدی، کامران فاروقی، قاری عبدالشکور اور دیگر علمائے کرام و رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ صیہونی ریاست کی جانب سے عالمی امن مشن “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے قافلے پر حملہ ناقابلِ برداشت دہشت گردی ہے۔اسرائیل کی جارحیت نہ صرف فلسطینی عوام کے خلاف ہے بلکہ پوری انسانیت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔عالمی طاقتیں اور انسانی حقوق کے ادارے اس ظلم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جو ان کی جانبداری اور دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔امت مسلمہ کے حکمرانوں کو خوابِ غفلت سے جاگنا ہوگا اور مظلوم فلسطینی بھائیوں کے دفاع کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی۔
مولانارب نواز حنفی نے مزید کہا کہ اگر عالمی ادارے اور مسلم ممالک اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد نہ ہوئے تو یہ ظلم بڑھتا رہے گا اور دنیا کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس وقت سب سے بڑی ضرورت اسلامی ممالک کے اتحاد اور مشترکہ لائحہ عمل کی ہے۔قاٸدین اہلسنت نے حکومتِ پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا کہ:عالمی سطح پر فلسطین کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کیا جائے۔ او آئی سی کو فوری طور پر ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے کردار ادا کیا جائے۔اسرائیل کے خلاف سخت سفارتی اقدامات اور بائیکاٹ کی پالیسی اپنائی جائےپاکستان کے عوام کے جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے فلسطینی عوام کی عملی مدد کے اقدامات کیے جائیں۔مقررین نے کہا کہ اہلسنت والجماعت پاکستان ہمیشہ فلسطینی مظلوم عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور یہ جدوجہد ہر پلیٹ فارم پر جاری رکھی جائے گی۔
احتجاج کے اختتام پر فلسطین کی آزادی، شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی صحت یابی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔


