کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)کنسلٹنٹ اینڈ فیکلٹی آف انفیکشیئس ڈیزیز سندھ انفیکشیئس ڈیزیز اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر ڈاؤیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی کی ڈاکٹر منیبہ احسن سعیدنے کہا کہ پاکستان میں ہر روز 8 خواتین سروائیکل کینسر کے باعث اپنی جان گنوا بیٹھتی ہیں جبکہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس سے بچاؤ ممکن ہے۔اگر اس بیماری کے خلاف کوئی موثر اقدامات نہ کئے گئے، تو اگلے 70 سالوں میں اس کا بوجھ تین گنا بڑھنے کا خدشہ ہے۔ایچ پی وی انفیکشن سے لے کر سروائیکل کینسر (رحم کے منہ کا کینسر) کی شکل اختیار کرنے میں عموماً 15 سے 20 سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لگتا ہے۔ عالمی سطح پر ہر دو منٹ میں ایک عورت اس قابلِ روک تھام مرض کے باعث جان کی بازی ہار دیتی ہے۔ ان اموات میں سے 90 فیصد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں۔عالمی سطح پر ہر سال سامنے آنے والے 660,000 سروائیکل کینسر کے کیسز میں سے 95 فیصد کی وجہ ایچ پی وی انفیکشن ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کے روز شعبہ مائیکروبائیولوجی جامعہ کراچی اور ایسوسی ایشن آف مالیکولراینڈ مائیکروبائیل سائنسزکے اشتراک سے کلیہ علم الادویہ جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقد سیمینار بعنوان ”ایچ پی وی ویکسین: حقائق اور غلط فہمیوں میں فرق“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر منیبہ احسن نے مزیدکہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں بھارت کے بعد دوسرا بڑا ملک بن چکا ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد ان بچوں کی ہے جنہیں کوئی بھی حفاظتی ویکسین نہیں لگی۔ایسی تعداد 4 لاکھ 19 ہزار بچوں پر مشتمل ہے۔ یہ رپورٹ برطانوی طبی جریدے ”لانسٹ” میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق سے حاصل کردہ اعدادوشمار پر مبنی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 2023 کے دوران 4,700 سے 4,800 نئے سروائیکل کینسر کیسز اور تقریباً 3,000 اموات رپورٹ ہوئیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر 1 لاکھ خواتین میں سے 5.4 خواتین اس بیماری کا شکار ہو رہی ہیں، جبکہ شرحِ اموات 64 فیصد ہے۔ اگرچہ ملک میں خواتین کی تعداد 12 کروڑ 38 لاکھ سے زائد ہے، پھر بھی 5000 کیسز کا تناسب صرف 0.004 فیصد بنتا ہے۔ایچ پی وی ایک عام وائرس ہے، اور اندازے کے مطابق 50 سے 80 فیصد خواتین اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر اس انفیکشن کا شکار ہوتی ہیں۔ ان میں سے تقریباً 50 فیصد خواتین کو وائرس کی وہ اقسام لاحق ہوتی ہیں جو کینسر پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انسانی پیپیلوما وائرس (HPV) ویکسین کی پہلی قومی مہم کا باقاعدہ آغاز 15 ستمبر 2025 کو کیا گیا۔ جنوبی ایشیا میں، پاکستان دوسرا آخری ملک ہے جس نے ایچ پی وی ویکسین کو اپنے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں شامل کیا ہے۔ پاکستان اُن دو آخری ممالک میں شامل ہے، افغانستان کے ساتھ جہاں پولیو وائرس اب بھی مقامی سطح پر موجود ہے، باوجود اس کے کہ عالمی سطح پر اس کے خاتمے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر منیہ نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی 2021 سے 2023 تک کی ایک تحقیق، جو پاکستان کے 18 صحت کے مراکز میں کی گئی، میں صرف 1,580 کیسز رپورٹ ہوئے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں اس بیماری کے کیسز کی رپورٹنگ انتہائی کم ہے، جس کی بڑی وجوہات کم اسکریننگ اور قومی رجسٹری کا نہ ہونا ہیں۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرکراچی شرقی، ڈاکٹر زاہد سولنگی نے بتایا کہ ایچ پی وی ویکسین کا دیہی علاقوں میں اچھا رسپانس ملا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد نے اپنی بچیوں کو یہ ویکسین لگوائی ہے۔ دسمبر تک یہ ویکسین اسی طرح مہیا کی جاتی رہے گی اور اس کے بعد یہ ای پی آئی پروگرام کے تحت دی جاتی رہے گی۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی اور سیمینار کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا کہ اس طرح کے پروگرام سے عوام کو درست معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور افواہوں کا توڑ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے طالبات سے خصوصاً اپیل کی کہ وہ ویکسین کے حوالے سے غلط معلومات کے سد باب میں اپنا کردار ادا کریں۔
آغا خان یونیورسٹی کی ڈاکٹر کرن اقبال مسعود نے ایچ پی وی وائرس کی سالماتی ساخت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وائرس میں انسانی ڈی این اے کے ساتھ رابطہ کرکے میوٹیشن کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس وائرس کا پھیلاؤ جنسی تعلق کے علاوہ بھی ممکن ہے لہٰذا اس کی ویکسین نہایت اہم ہے۔
عیسیٰ لیب کے سی ای او پروفیسرڈاکٹرفرحان عیسیٰ نے اس بات پہ زور دیا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد ایک اثاثہ ہے جو اپنی صحت کا خیال رکھ کہ ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کی پاکستان میں مفت فراہمی حکومت کا ایک اہم اقدام ہے جس سے پاکستانی نوجوانوں خاص طور پر لڑکیوں کو ضرور فائدہ اٹھانا چاہیئے۔سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل مفتی ڈاکٹر عمیر محمود صاحب نے اسلام میں اپنی جان اور صحت کے خیال رکھنے کی اہمیت پہ زور دیا ہے۔ تاہم ان ویکسین کی تیاری میں حرام اجزاء کی عدم موجودگی کا یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ایچ پی وی ویکسین کو خمیر میں تیار کیا جاتا ہے لہذا اس ویکسین میں یہ خدشہ نہیں ہے۔
سیمینار کے پینل ڈسکشن میں ماہرین نے ویکسین کے خلاف عمومی تاثر کی نفی کی۔ شرکاء کے سوالات کا مفصل جواب دیتے ہوئیکراچی یونیورسٹی کی سابق ڈین، ڈاکٹر شاہانہ عروج کاظمی نے بتایا کہ ایچ پی وی ویکسین who سے تصدیق شدہ ہے۔ پاکستانی محققین اس ویکسین سے مطمئن ہیں اور اس ویکسین کے زیر اثر امیون اسٹیٹس پہ تحقیق بھی کر رہے ہیں۔ امیونولوجی کے ماہر ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ پہلے NIH اسلام آباد میں پولیو کی ویکسین بنائی جاتی تھی، تاہم درجہ بدرجہ ہم تنزلی کا شکار ہوئے۔ اگر پاکستان میں ویکسین کی تیاری کی جائے تو لوگوں میں پایا جانے والا عدم اعتماد کم کیا جاسکتا تھا۔ ڈاکٹر منیبہ نے پینل ڈسکشن میں اس بات پہ زور دیا کہ افواہوں پہ یقین رکھنے کی بجائے درست معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ مفتی عمیر محمود نے فرمایا کی اسلام نے غلط معلومات کو آگے پھیلانے سے منع فرمایا۔
سیمینار میں طلبہ نے ایچ پی وی ویکسین کے حوالے سے آگاہی کے لیے پروجیکٹ بھی پیش کیے۔ طلبہ نے عوام کی آگاہی کے لیے مختصر دورانیے کی ویڈیوز بھی پیش کیں۔ طلبہ نے اس بات پہ زور دیا کہ یہ انفیکشن مردوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے لہٰذا اس کے بارے میں عوام کو درست معلومات فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔
پروگرام کے آخر میں ایسوسی ایشن آف مالیکولراینڈ مائیکروبائیل سائنسز کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد سہیل نے کہا کہ ہمارے ہاں صحت کے لیے مضر کھانے اور گندگی کی بابت وہ مزاحمت نہیں دیکھی جاتی جو ویکسین کے خلاف دیکھی جاتی ہے۔ آخر میں انہوں نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا-


