کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ حکومت کے بڑوں کا نام استعمال کر کے مال بٹورنا ڈائریکٹر ساؤتھ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اشفاق کھوکھر کے گلے پڑ گیا
ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے اسحاق کھوڑو نے اشفاق کھوکھر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا، جس میں ان سے جواب طلبی کی گئی ہے کہ
(i) وہ کلفٹن بلاک 4 ای اسٹریٹ پر ایک غیرقانونی تعمیرات میں براہ راست ملوث ہیں
(ii)اس کے علاوہ آپ اپنے ضلع اور خاص کر آرٹلری میدان میں بننے والی متعدد عمارات سے بھاری رشوت وصول کر رہے ہیں
(iii) آپ نے اپنے مفادات حاصل کرنے یعنی اندھا دھند مال سیمٹنے کے لئے کچھ بڑوں کا نام استعمال بھی کیا جس نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نیک نامی کو تار تار کر دیا ہے
اس شوکاز نوٹس پر اور مذکورہ بالا الزامات پر کیوں نہ آپ کے خلاف (SBCA (E&D ریگولیشنز 2016 کے تحت کارروائی کی جائے
3 دن کے اندر آپ نے جواب نہیں دیا تو آپ کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا
ڈی جی اسحاق کھوڑو کے اس شوکاز نوٹس نے ثابت کر دیا کہ اشفاق کھوکھر نے اپنی ٹیم کے اراکین الطاف کھوکھر اور آفتاب زرداری کے ساتھ مل کر کرپشن کا بازار گرم کیا ہوا ہے
گزشتہ دنوں تعمیراتی قوانین کے ماہر ایڈوکیٹ ندیم احمد جمال نے بھی اپیلٹ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپنا ردعمل دیتے ہوئے اعتراض کیا تھا کہ جس شخص کے خلاف ہم نے غیرقانونی تعمیرات میں ملوث ہونے کی کمپلین داخل کی ہوئی ہے اسے ہی اپیلٹ کمیٹی کا ممبر بنا دیا گیا ہے
یعنی ملزم کو منصف کی سیٹ پر بٹھانے کے بعد کیسا انصاف ہوگا، یہ سب اب ایس بی سی اے کے حکام نے بھی دیکھ لیا ہے، مذکورہ شوکاز نوٹس پر ایچ آر این ڈبلیو نے ایڈوکیٹ ندیم احمد جمال سے ان کا موقف لیا تو انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں ہر غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کرمنل کیس دائر کریںگے، کیونکہ ہمارے 17 پلاٹوں پر اپیلٹ کمیٹی نے 45 دن میں کارروائی کرنے کا جو فیصلہ دیا تھا وہ کمیٹی ممبر اشفاق کھوکھر کی وجہ سے فائلوں میں دفن کر دیا گیا ہے، اب اس فیصلہ کو ایس بی سی اے کی خصوصی عدالت میں چیلنج کر دیں گے


