حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے کہا ہے کہ موجودہ 11 فیصد پالیسی ریٹ بدستورغیرمعمولی حد تک بلند ہے جسے فوری طور پر سنگل ڈجٹ میں لایا جانا ناگزیر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معیار، موجودہ مہنگائی اور ملک کی مجموعی معاشی صورت حال کو دیکھتے ہوئے شرح سود 6 فیصد ہونی چاہیئے۔ لیکن ہم موجودہ حالات میں یہ سمجھتے ہیں کہ کم اَز کم اُسے فوری طور پر 9 فیصد سے بھی نیچے لایا جائے تاکہ ملک کی صنعتی، تجارتی اور برآمدی سرگرمیوں کو نئی توانائی ملے۔
اُنہوں نے کہا کہ حکومت خود بینکوں سے کھربوں روپے کے قرضے حاصل کرتی ہے اور صرف سود کی ادائیگی میں سالانہ 8.5 کھرب روپے سے زائد رقم خرچ ہو رہی ہے۔ اگر شرح سود میں 2 سے 3 فیصد کمی کی جائے تو حکومت سالانہ 1.5 سے 2 کھرب روپے بچا سکتی ہے جو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور خاص طور پر چھوٹے تاجروں کے لیے براہِ راست معاونت میں استعمال ہوسکتی ہے۔ یہ بچت ایک ایسے وقت میں نہایت اہم ہے جب ملک کو اندرونی اور بیرونی مالی چیلنجز کا سامنا ہے۔
صدر چیمبر سلیم میمن نے اِس اَمر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان کے حریف ممالک جیسے کہ بنگلہ دیش، ویتنام اور بھارت میں شرح سود ہم سے کہیں کم ہے جس کے باعث وہاں کی صنعتوں کو سستی مالیات میسر ہیں اور اُن کی ایکسپورٹ بھی ہماری نسبت کئی گنا تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل سیکٹر میں ویتنام اور بنگلہ دیش کی برآمدات دنیا میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جبکہ پاکستان کا برآمدی شعبہ مہنگے قرضوں کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگرچہ گزشتہ مہینوں میں شرح سود میں کچھ کمی ضرور کی ہے لیکن اَب بھی 11 فیصد کی سطح سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی رُکاوٹ ہے۔ جب تک یہ شرح سنگل ڈجٹ تک نہیں آتی، کاروباری برادری کو سستی فنانسنگ حاصل نہیں ہوگی اور سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی بہتری کے امکانات محدود رہیں گے۔
صدر چیمبر سلیم میمن نے یاد دہانی کرائی کہ ماضی میں بھی حیدرآباد چیمبر نے متعدد بار اسٹیٹ بینک اور وزارتِ خزانہ کو اِس جانب توجہ دلائی ہے کہ پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کی جائے۔اُنہوں نے کہا کہ جن ممالک نے اپنی شرح سود واحد ہندسے میں رکھی، وہاں سرمایہ کاری میں اضافہ، روزگار کے مواقع اور برآمدات میں تیزی آئی۔
آخر میں صدر سلیم میمن نے حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا کہ سود کی شرح کو بتدریج 6 فیصد تک لانے کی سمت میں پالیسی اختیار کی جائے اور فوری طور پر اُسے 9 فیصد سے نیچے لایا جائے۔ یہ نہ صرف حکومتی قرضوں کا بوجھ کم کرے گا بلکہ عام شہری، صنعتکار، تاجر، برآمد کنندگان اور نئی سرمایہ کاری کے خواہاں افراد کے لیے بھی ایک بڑا ریلیف ہوگا۔
اُنہوں نے کہا کہ اَب وقت آگیا ہے کہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے سخت مالیاتی پالیسیوں کی جگہ دانشمندانہ، کاروبار دوست اور عوامی ریلیف پر مبنی فیصلے کیے جائیں۔


