وزیراعلیٰ سندھ نےلیاقت یونیورسٹی اسپتال جامشورومیں نئے زچہ و بچہ مرکز کا افتتاح کردیا

جامشورو(ایچ آراین ڈبلیو) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےجمعہ کےروز لیاقت یونیورسٹی جامشورومیں نوتعمیر شدہ زچہ و بچہ صحت مرکزکا افتتاح کیا جو سندھ میں ماں اور بچے کی صحت کی سہولیات بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ منصوبہ جاپان کے بین الاقوامی امدادی ادارے (جائیکا) کے تعاون سے مکمل کیا گیا جسے سندھ اور جاپان کے درمیان دیرپا دوستی کی علامت قرار دیا گیا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے اس مرکز کو “امید کی کرن اور ماں و بچے کی صحت کے لیے ایک نئی صبح” قرار دیا اور جاپانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ اسپتال صرف اینٹوں اور سیمنٹ کی عمارت نہیں بلکہ ہمدردی، ترقی اور صحت مند نسلوں کے مشترکہ وژن کا اظہار ہے۔

یہ منصوبہ جولائی 2018میں شروع ہوااور سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے تحت 33 کروڑ 10 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا۔ اس میں128 بستروں کا اضافہ کیا گیا، جس سے لیاقت یونیورسٹی اسپتال کی مجموعی گنجائش 856 بستروں تک پہنچ گئی ہے۔ اسپتال کو جدید طبی آلات اور عملے کی تربیتی سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے تاکہ چوبیس گھنٹے ماں اور بچے کی صحت کی خدمات فراہم کی جا سکیں۔ اسپتال اگلے ہفتے سے باقاعدہ کام شروع کرے گا اور حیدرآباد ڈویژن سمیت دیگر علاقوں کے عوام کو خدمات فراہم کرے گا۔

وزیراعلیٰ نے جاپان کے سفیر جناب شواچی اوکاموتو اور جائیکا کا سندھ میں صحت کے شعبے اور خاص طور پر مشکل حالات میں مسلسل تعاون پرشکریہ ادا کیا۔اُنہوں نےکہا کہ یہ منصوبہ بین الاقوامی تعاون کی کامیاب کہانی ہےجوآنےوالی نسلوں کےلیے ہمارے نظام کو مضبوط کرے گا۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ حکومت سندھ کی وسیع تر صحت پالیسی کے تحت شہدادپور، قمبرشہداد کوٹ، سجاول اور میرپور ماتھیلو میں چار نئے سیٹلائٹ ہیلتھ کیئر سینٹر قائم کیے جائیں گے جہاں 24 گھنٹے زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کی سہولت دستیاب ہو گی تاکہ پسماندہ علاقوں میں معیاری طبی سہولتیں عام شہریوں تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے موبائل ہیلتھ یونٹس اور ٹیلی میڈیسن کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور انہیں ان خاندانوں کے لیے زندگی کی ڈور قرار دیا جو ماضی میں طبی امداد سے گھنٹوں دور تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونٹالوجی (ایس آئی سی ایچ این) صوبائی حکومت کی نمایاں کامیابیوں میں شامل ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے یہ ادارہ کراچی سے پورے صوبے میں پھیل چکا ہے جہاں دنیا کے بڑے سرکاری نیونٹال انٹینسیو کیئر یونٹس (این آئی سی یو) میں سے ایک کام کر رہا ہے۔ اس نیٹ ورک میں 262 سے زائد انکیوبیٹرز شامل ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس ادارے میں ہر سال پانچ لاکھ سے زائد بچوں کا علاج کیا جاتا ہے اور یہاں صحت یاب ہونے کی شرح 91 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ سندھ میں شیر خوار بچوں کی شرح اموات 1,000 زندہ پیدا ہونے والے بچوں میں 54 سے کم ہوکر 29 پر آ گئی ہے جو ایک قابل تصدیق اور نمایاں بہتری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج سندھ کا ہر بچہ ایمرجنسی طبی سہولیات سے صرف 30 منٹ کی دوری پر ہے جو چند برس پہلے تک ناقابل تصور تھا۔

مراد علی شاہ نے چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے تعاون سے ہر تعلقہ اسپتال میں نیونٹال یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے فخر سے کہا کہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونٹالوجی اپنے انفرااسٹرکچر اور مریضوں کے علاج کے نتائج کے اعتبار سے نجی اسپتالوں کے ہم پلہ ہے۔

انہوں نے سندھ کے دیگر انقلابی طبی منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جن میں گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں جگر کی پیوند کاری، سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن میں گردوں کی پیوند کاری اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں کینسر کا علاج شامل ہیں۔ جناح اسپتال میں ہر مریض کو تقریباً ایک لاکھ امریکی ڈالر مالیت کا علاج مکمل طور پر سرکاری خرچ پر فراہم کیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ صرف اسپتال نہیں، بلکہ مستقبل کی نسلوں کے لیے زندگی کی ضمانت ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں