لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)اردو ادب کے معروف شاعر اور نغمہ نگار قتیل شفائی کو ہم سے بچھڑے 24 برس بیت گئے، مگر ان کی شاعری اور فلمی گیت آج بھی زبان زدِ عام ہیں اور اہلِ ذوق کے دلوں میں زندہ ہیں۔قتیل شفائی نے اپنی زندگی میں اڑھائی ہزار سے زائد فلمی گیت لکھے ۔
انہوں نے پاکستانی فلم انڈسٹری کو نہ صرف کامیاب گیت دیے بلکہ سننے والوں کے دلوں کو بھی چھو لیا۔ ان کی شاعری میں خلوص، محبت، سادگی اور دلکشی کا امتزاج نمایاں ہے، جس نے ہر دور کے قارئین اور سامعین کو متاثر کیا۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 1994 میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگیسے نوازا۔ قتیل شفائی کی تخلیقات آج بھی ریڈیو، ٹی وی اور مختلف ادبی محفلوں میں شوق سے پڑھی اور سنی جاتی ہیں۔
ان کی شاعری کے خوبصورت لب و لہجے اور جذباتی گہرائی نے انہیں اردو ادب میں ایک منفرد مقام عطا کیا، اور ان کا تخلیقی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔


