اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان میں مائع قدرتی گیس (LNG) کے بحران نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے باعث ملک کو توانائی اور بجلی کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق ایل این جی کی قیمت اوگرا کی مقرر کردہ سرکاری قیمت 304 روپے فی کلو کے مقابلے میں 116 روپے زیادہ یعنی 420 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جس پر عوامی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق اپریل 2026 میں ملک کو ایل این جی سپلائی کے بحران کا سامنا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں آبنائے ہرمز کے قریب سپلائی چین میں رکاوٹ، سستی اسپاٹ کارگوز کی عدم دستیابی اور درآمدات پر بڑھتا ہوا انحصار شامل ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث ملک بھر میں روزانہ 6 سے 7 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ شروع ہو چکی ہے جبکہ بجلی کا مجموعی شارٹ فال تقریباً 3400 میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے۔
توانائی کے شعبے میں مہنگے متبادل ایندھن کے استعمال سے پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی بجلی گھروں میں ایل این جی پر انحصار کیا جا رہا ہے، جس سے نظام مزید دباؤ کا شکار ہے۔ماہرین نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے توانائی پالیسی میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔


