خیبرپختونخوا(ایچ آراین ڈبلیو)حکومت کے 8 جولائی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 27 ارکانِ اسمبلی کو پارلیمانی سیکرٹری تعینات کر دیا ہے۔ یہ تمام افراد اب وزیرانہ پروٹوکول، دفتر، گاڑی، عملہ، ایندھن اور دیگر مراعات سے لطف اندوز ہوں گے — اور یہ سب ہوگا عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے!
اگر ایک پارلیمانی سیکرٹری پر اوسطاً 10 لاکھ روپے ماہانہ خرچ ہو، تو 27 افراد پر کروڑوں روپے سے زائد ماہانہ رقم صرف ہوگی۔ سوال یہ ہے: کیا یہ وسائل نظام کو بہتر بنانے پر خرچ ہونے چاہییں تھے یا صرف سیاسی وفاداروں کو خوش کرنے پر؟
تعینات کیے گئے ان سیکریٹریز میں سوات سے 5، اپر اور لوئر دیر سے 4، ایبٹ آباد سے 2، چارسدہ، صوابی، مردان اور نوشہرہ سے مجموعی طور پر 5، جب کہ خیبر 1، کوہاٹ 1، مہمند 1 ، بونیر 1، ٹانک 1، جنوبی وزیرستان 2، ہری پور 1 اور کوہستان 2 نئے تعینات شدہ پارلیمانی سیکریٹری شامل ہیں۔
حیرت انگیز اور افسوسناک بات یہ ہے کہ صرف سوات سے پانچ ایم پی ایز کو یہ عہدے دیے گئے ہیں، جبکہ سابق فاٹا (ضم شدہ اضلاع) جیسے پسماندہ علاقوں — بنوں ، باجوڑ، وزیرستان اور خیبر — کو تقریباً مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ چند نمائندے محض رسمی طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ کیا یہی انصاف ہے؟
ضم شدہ اضلاع، جن سے بڑے بڑے وعدے کیے گئے تھے، آج بھی پسماندگی، بے روزگاری اور بدامنی کا شکار ہیں۔ ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی، سیاسی نمائندگی میں کمی، اور اب پروٹوکول کی تقسیم میں محرومی — یہ سب کھلا امتیازی سلوک ہے، جو عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
خیبرپختونخوا میں ترقی تو کہیں نظر نہیں آ رہی، البتہ “ترقی یافتہ پروٹوکول” ضرور ہر جانب دکھائی دے رہا ہے — اور اس کا پورا بوجھ عوام کی جیب پر ڈال دیا گیا ہے۔


