سوات(ایچ آراین ڈبلیو)دلخراش واقعےنےانتظامیہ اورریسکیواداروں کی ناقص کارکردگی کا پردہ چاک کردیا۔ایک باپ اپنے بچوں کو بچانے کے لیے دردر بھاگتا رہا، آنکھوں میں آنسو اور دل میں امید لیے ریسکیو اہلکاروں کی منتیں کرتا رہا لیکن کوئی داد رسی نہ ہوئی۔
دریائےسوات میں بہہ جانےوالےمردان کے بچوں کے والد نصیر احمد نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بچوں کی حالت خراب ہوچکی تھی،اپنےبچوں کوبچانےکے لیے در در بھاگتا رہا، ریسکیو والوں کی منتیں کرتا رہا لیکن جان بچانے کے سامان سے محروم ریسکیو والے کچھ نہ کرسکے۔
نصیر احمد نے بتایا کہ ریسکیو والے اپنے ساتھ صرف ایک رسا لے کر آئے۔ نصیر احمد کے مطابق انہوں نے ریسکیو اہکاروں سے پوچھا کہ اس ایک رسے سے کیا کرلو گے؟ جواب ملا، بس یہی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں اور پھر وہ رسا چھوڑ کر واپس چلے گئے۔
نصیر احمد نے کہا کہ آدھے گھنٹے بعد ایک اور بڑی گاڑی آئی لیکن اُس میں بھی کچھ نہیں تھا، میں نے کہا، سامان نہیں ہے تو آئے کیوں؟


