شہید امجد صابری کو اس دنیا سے رخصت ہوئے نو سال بیت گئے

شہید امجد صابری کو اس دنیا سے رخصت ہوئے نو سال بیت گئے مگر ان کی آواز آج بھی دلوں میں بسی ہوئی ہے۔

میں قبر اندھیری میں گھبراؤں گا جب تنہا امداد میری کرنے آجانا رسول اللہ

معروف قوال امجد صابری کو 16 رمضان المبارک 23 جون 2016 کو لیاقت آباد نمبر 10 پر نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔۔۔

بے گناہ امجد صابری کی شہادت حب نبیؐ کی ضمانت اور بے گناہی کی گواہی ہے۔ صابری خاندان کا ہونہار چشم و چراغ گُل نہیں ہوا بلکہ اللہ و رسولؐ کی محبت میں ڈوبی ایک نرم آواز کو ہمیشہ کے لئے سلا دیا گیا۔۔۔

غلام فرید صابری مرحوم کے تیسرے صاحبزادے امجد نے کم عمری میں اپنے والد کی شاگردی اختیار کر لی اور والد کے انتقال کے بعد ان کے نام کو پوری دنیا میں روشن کیا۔ والد کے پڑھے نعتیہ کلاموں کو جدید دور میں نئی نسل میں روشناس کرایا۔۔۔

امجد صابری نے والد فرید صابری کی جدائی کے بعد ان کا نام زندہ رکھنے والے کیلئے والد کی وراثت کا حق ادا کیا،اور قوالی میں نام کمایا۔ امجد صابری نے بچپن سے ہی گھر میں تصوف کو پروان چڑھتے دیکھا ۔فن قوالی میں اپنے والد سے تربیت حاصل کرتے ہوئے محض آٹھ سال کی عمر سے ہی گائیکی کا آغاز کردیا تھا۔

اللہ اور اس کے اولیا سے محبت نے امجد صابری کی آواز میں ایسی مٹھاس اور سرور بھر دیا کہ سننے والے آواز کے سحر میں کھو جاتے ۔ امجد صابری نے پاکستان اور بھارت میں کئی کلام پڑھے۔ انہیں کئی ایوارڈز کے ساتھ بہترین پرفارمنس کا ایوارڈ پرائڈ آف پرفارمنس بھی ملا تھا۔

امجد صابری کہتے تھے کہ تاجدار حرم۔ جب بھی پڑھی آنکھوں میں آنسو آئے۔ یہ پڑھتے ہوئے انہیں شدت سے والد کی یاد آئی۔ فن قوالی میں اپنا منفرد مقام رکھنے والے امجد صابری اپنی آواز سے دلوں میں خاص مقام رکھتے ہپں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں