کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)عالمی یومِ تھیلیسیمیا کےموقع پرسماجی وطبی حلقوں کی جانب سےآگاہی اوراجتماعی ذمہ داری پرزوردیا گیاعالمی یومِ تھیلیسیمیا کےموقع پر بانیٔ فکر و دانش ڈاکٹر صادق علی سید اور Dr Haseeb Child Care Foundation کے صدر ڈاکٹر حسیب نواز خان نے ایک مشترکہ اور بلیغ پیغام میں اس امر پر زور دیا کہ تھیلیسیمیا محض ایک طبی عارضہ نہیں بلکہ ایک گہرا انسانی المیہ ہے، جس کے سدباب کے لیے مسلسل توجہ، شعور اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری ناگزیر ہے۔
انہوں نےکہا کہ تھیلیسیمیا سےمتاثرہ بچے اور ان کے خاندان ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد سے گزرتے ہیں، جہاں ہر چند ہفتوں بعد خون کی فراہمی ان کی زندگی کا لازمی حصہ بن جاتی ہے۔ ان کے مطابق بروقت تشخیص، قبل از ازدواج اسکریننگ اور محفوظ انتقالِ خون کے مؤثر نظام کے ذریعے اس مرض کے پھیلاؤ کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے کمزور اور بیمار افراد کے ساتھ برتاؤ سے ہوتی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کو نہ صرف مستقل طبی سہولیات فراہم کی جائیں بلکہ ان کے لیے محبت، احترام اور معاشرتی قبولیت کی فضا بھی قائم کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آگاہی وہ اولین زینہ ہے جو بیماری کے اندھیروں کو شکست دے سکتا ہے۔ اگر نوجوان نسل کو بروقت رہنمائی دی جائے، خون کے عطیات کے کلچر کو فروغ دیا جائے اور صحت کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تو اس مرض کے بوجھ کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں اہلِ وطن، خصوصاً نوجوانوں اور مخیر حضرات سے اپیل کی گئی کہ وہ باقاعدگی سے خون کا عطیہ دیں، تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی کفالت میں حصہ لیں اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کریں جہاں ہر زندگی کو جینے کا حق اور موقع میسر ہو۔


