**کراچی / لندن (ایچ آر این ڈبلیو):** دنیا بھر میں آج 14 جون 2026 کو عالمی یومِ عطیۂ خون (World Blood Donor Day) منایا جا رہا ہے۔ تاہم، پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ دن محض ایک رسمی جشن نہیں بلکہ ایک سنگین اجتماعی احتساب کا لمحہ ہے، جو یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اکیسویں صدی کی تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود کیوں آج بھی ہزاروں مریض صرف بروقت خون نہ ملنے کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
### **مصنوعی متبادل سے محروم واحد حیاتیاتی نعمت**
طبی ماہرین کے مطابق، خون کائنات کی وہ واحد حیاتیاتی نعمت ہے جسے دنیا کی کوئی بھی لیبارٹری، کوئی بھی مصنوعی ذہانت (AI) یا کوئی بھی جدید ترین ٹیکنالوجی تخلیق نہیں کر سکتی۔ زندگی کی یہ ڈوری صرف اور صرف ایک انسان سے دوسرے انسان کے جسم میں منتقل ہو کر ہی برقرار رکھی جا سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ خون کا عطیہ درحقیقت ایک انسان کو نئی زندگی دینے کے مترادف ہے۔
### **پاکستان میں خون کا بحران: ہولناک اعداد و شمار**
عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور وزارتِ صحت پاکستان کے جاری کردہ مستند اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کو سالانہ 50 لاکھ (5 Million) سے زائد خون کے یونٹس درکار ہیں۔ اس کے برعکس، ملک میں عملی طور پر سالانہ صرف 23 لاکھ عطیات ہی حاصل ہو پاتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو ہر سال تقریباً 27 لاکھ یونٹس خون کی ہولناک کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ ملک میں دستیاب خون کا ایک بڑا حصہ رضاکارانہ طور پر دینے والوں کے بجائے “ری پلیسمنٹ” یا خاندانی ڈونرز (مجبوری کے تحت دینے والوں) سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت کے رہنما اصولوں کے مطابق محفوظ ترین خون کی فراہمی کے لیے 100 فیصد رضاکارانہ عطیات کا ہونا لازمی ہے۔
### **تھیلیسیمیا کے معصوم بچوں پر ٹوٹتی قیامت**
اس شدید بحران کا سب سے زیادہ دردناک بوجھ تھیلیسیمیا (Thalassemia) کے معصوم بچوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد بچے اس موروثی مرض کے باعث مستقل بنیادوں پر خون لگوانے کے محتاج ہیں، جبکہ ہر سال مزید 5 ہزار معصوم بچے اس جان لیوا بیماری کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں۔ ان بچوں کے لیے خون کا ایک ایک یونٹ کوئی عیاشی یا عام طبی سہولت نہیں، بلکہ ان کی بقا اور زندگی کا واحد سہارا ہے۔
### **صحت کا مسئلہ یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی؟**
انٹرنیشنل ڈیوائن ڈیموکریٹک رائٹس آرگنائزیشن (IDDRO) نے اس معاملے پر اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ صرف صحت کا شعبہ نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ جب کسی بھی شہری کو صرف خون کی عدم دستیابی کی وجہ سے بنیادی علاج سے محروم ہونا پڑے، تو یہ براہِ راست ریاست کی جانب سے فراہم کردہ حقِ زندگی، حقِ صحت اور انسانی وقار کے عالمی اصولوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
### **IDDRO کا ملک گیر سماجی تحریک اور اسکریننگ کا مطالبہ**
بحران کے مستقل حل کے لیے IDDRO نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں خون کے عطیات کو ایک قومی سماجی تحریک کی شکل دی جائے۔ اس مقصد کے لیے اسکولوں، جامعات، مساجد، گرجا گھروں، امام بارگاہوں، کارپوریٹ سیکٹر اور میڈیا کو مل کر ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں خون دینا ہر شہری کی معمول کی سماجی ذمہ داری بن جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، آئندہ نسلوں کو اس عذاب سے بچانے کے لیے شادی سے قبل تھیلیسیمیا اسکریننگ ٹیسٹ کو لازمی قرار دینا اور عوامی آگاہی کو قومی ترجیح بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
آج کے دن دنیا بھر کے ان تمام گمنام ہیروز، ڈاکٹروں، نرسوں اور رضاکاروں کو سلام پیش کیا جاتا ہے جو اپنے خون کا عطیہ دے کر انسانیت کو امید اور زندگی فراہم کر رہے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر عہد کریں کہ پاکستان میں اب کوئی ماں اپنے بچے کے لیے خون کی تلاش میں دربدر نہ بھٹکے، اور کوئی زخمی صرف خون نہ ملنے کی وجہ سے دم نہ توڑے، کیونکہ انسانیت کی بقا کا راستہ صرف ہمدردی سے ہی ممکن ہے۔
—
> **ہماری مہم کا حصہ بنیں:**
> انسانی حقوق کے تحفظ، صحت عامہ کی مہمات اور تھیلیسیمیا کے معصوم بچوں کو زندگی کی سانسیں فراہم کرنے کی اس جدوجہد میں **HRNW** (دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل) کا ساتھ دیں۔ آپ کا ایک چھوٹا سا تعاون ہمیں سچائی کو پھیلانے اور مظلوموں کی آواز بننے کی طاقت دیتا ہے۔
> **تعاون کے لیے یہاں کلک کریں:** [HRNW Support Link](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


