**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** کراچی انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ ٹیکنالوجی (KIET) نارتھ کیمپس میں سوسائٹی فار پروموشن آف ریڈنگ اینڈ امپروومنٹ آف لائبریریز (SPRIL) کے تعاون سے ’’کتابوں سے آگے: لکھاری، محقق اور میڈیا کا ارتقا‘‘ کے عنوان سے ایک علمی و فکری سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں ماہرین تعلیم، محققین، میڈیا شخصیات اور طلبہ نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر کِیٹ انسٹیٹیوٹ نارتھ کیمپس **پروفیسر ڈاکٹر خالد خان** نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) نے دنیا بھر میں ایک نئے علمی اور تخلیقی انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے اور وقت کے ساتھ اس کی افادیت اور وسعت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ہر عمر کے افراد مستفید ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کتابیں اور علم کے ذرائع مسلسل ارتقا کے مراحل سے گزر رہے ہیں، لہٰذا آج کے لکھاری اور محقق کو مستقبل کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلِ علم اور دانشوروں کے افکار کو جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے نئی نسل تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے، جس سے علمی ورثے کا تحفظ بھی ممکن ہوگا۔
نجی ٹی وی کے جنرل مینیجر **امجد حسین شاہ** نے اپنے خطاب میں کہا کہ قلم اور کتاب ہمیشہ علم، تہذیب اور شعور کی بنیاد رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل مواد کو کتابی شکل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں ہمارے خیالات، تجربات اور احساسات سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علم کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا اور جو افراد سیکھنے اور دوسروں تک علم منتقل کرنے کا عمل جاری رکھتے ہیں، وہی معاشرے کی حقیقی ترقی میں کردار ادا کرتے ہیں۔
اسپرل کی بانی رکن **ربیعہ علی فریدی** نے کہا کہ اسپرل کا سفر گزشتہ سال کِیٹ انسٹیٹیوٹ نارتھ کیمپس سے شروع ہوا تھا اور وہ اس مشن کو تاحیات جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کِیٹ انسٹیٹیوٹ نارتھ کیمپس مطالعے کے فروغ، لائبریری سائنسز کی ترویج اور علمی ثقافت کے استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کر رہا ہے، جبکہ اسپرل مطالعے کے رجحان اور لائبریریوں کی بہتری کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہے۔
کِیٹ انسٹیٹیوٹ نارتھ کیمپس کی لائبریرین **جواہر علیم** نے کہا کہ لائبریری سائنسز ایک وسیع، اہم اور تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے جو علم، تحقیق اور معلومات تک مؤثر رسائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ، علمی وسائل کے بہتر انتظام اور مطالعے کی ثقافت کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
سیمینار سے **ساجدہ پروین، راشد علی، سلمان ثروت** اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور مطالعہ، تحقیق، تخلیقی تحریر اور جدید ذرائع ابلاغ کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
تقریب کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر خالد خان نے مہمانِ خصوصی اور مقررین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیں، جبکہ کِیٹ انسٹیٹیوٹ نارتھ کیمپس کی لائبریرین جواہر علیم نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
**اپیل برائے تعاون**
علم، تحقیق، انسانی حقوق، تعلیم اور سماجی ترقی سے متعلق مثبت سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کے لیے **HRNW (Human Rights News Worldwide)** کی حمایت کریں۔ آپ کا تعاون آزاد، معیاری اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
**تعاون کے لیے وزٹ کریں:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**اہم ہدایت (Important Note):**
یہ خبر تقریب کے منتظمین اور شرکاء کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ HRNW ذمہ دارانہ، متوازن اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں کے تحت تعلیمی، تحقیقی اور سماجی سرگرمیوں کی کوریج جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔


