وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا قومی انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) سید مراد علی شاہ نے قومی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ قومی انسدادِ پولیو مہم 13 سے 19 اپریل 2026 تک جاری رہے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اس مہم کے دوران ایک کروڑ 6 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے جبکہ صحت اور قوتِ مدافعت میں اضافے کے لیے 94 لاکھ بچوں کو وٹامن اے بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 83 ہزار تربیت یافتہ فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران 24 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ 2 ہزار 400 سے زائد لیڈی پولیس اہلکار پولیو ٹیموں کی حفاظت اور معاونت پر مامور ہوں گی۔ ان کے مطابق یہ اقدامات بچوں کے تحفظ اور فرنٹ لائن عملے کی حفاظت کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے آخری دو پولیو متاثرہ ممالک ہیں، اور پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 2024ء کے دوران 74 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ برس 31 کیسز سامنے آئے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ سندھ میں 2025ء کے دوران 80 فیصد ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس کے لیے مثبت رہے اور 9 بچے متاثر ہوئے، تاہم رواں سال اب تک پولیو کیسز میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے اور صوبے میں ضلع سجاول سے صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

مراد علی شاہ کے مطابق 2026ء میں ماحولیاتی نمونوں میں بہتری آئی ہے اور پولیو کیسز کی شرح کم ہو کر 24 فیصد رہ گئی ہے۔ انہوں نے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل قومی مہمات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بار بار ویکسینیشن مہمات پولیو کے خلاف قوتِ مدافعت مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ پولیو ویکسین محفوظ، مؤثر اور عالمی ادارۂ صحت سے تصدیق شدہ ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔ ساتھ ہی اسکول انتظامیہ سے درخواست کی کہ 5 سال سے کم عمر بچوں کی ویکسینیشن کے لیے پولیو ٹیموں کو رسائی دی جائے۔

آخر میں وزیراعلیٰ سندھ نے میڈیا، علما اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ پولیو آگاہی اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے ذریعے غلط معلومات کا خاتمہ کیا جائے تاکہ انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں