حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین زبیر گھا نگھرا نے سندھ بھر کی صنعتوں کو12 اپریل سے 13 اپریل، 24 گھنٹے کے لیے گیس کی فراہمی معطل کرنے کے فیصلے پرشدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صنعتیں پہلے ہی محدود گیس پریشر اور غیر یقینی سپلائی کے ساتھ اپنی پیداوار جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب ہفتے کے چھ دن پہلے ہی گیس کی محدود فراہمی کے ساتھ صنعتی پہیہ چلایا جا رہا ہے تو مزید 24 گھنٹے کی مکمل بندش صنعتوں کے لیے بدترین ثابت ہوگی، جو کسی طور قابلِ برداشت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اچانک بندش کے باعث نہ صرف صنعتی پیداوار شدید متاثر ہوگی بلکہ برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل بھی خطرے میں پڑ جائے گی، جس سے پاکستان کی عالمی مارکیٹ میں ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
زبیر گھانگھرا نے کہا کہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی روزی روٹی بھی براہِ راست متاثر ہوگی جبکہ پیداواری لاگت میں اضافہ صنعتوں کے لیے ایک اور بڑا چیلنج بن جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گیس کی قلت ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں، تاہم اس کا حل یکطرفہ طور پر صنعتوں کی بندش نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے لیے جامع اور متوازن حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ ایسے اقدامات وقتی ریلیف تو دے سکتے ہیں مگر طویل المدتی طور پر یہ صنعتی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیتے ہیں۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ صنعتوں کے لیے پیشگی اور قابلِ عمل گیس شیڈول جاری کیا جائے، برآمدی صنعتوں کو ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہمی یقینی بنائی جائے، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر ایسے فیصلوں سے گریز کیا جائے، اور متبادل توانائی ذرائع جیسے LNG، RLNG اور سولر کے فروغ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ چیئرمین حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن زبیر گھانگھرا نے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے اور صنعتوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ معاشی سرگرمیوں کا پہیہ بلا تعطل جاری رہ سکے۔


