کراچی کا کورنگی پل ڈاکوؤں کے لیے محفوظ پناہ گاہ اور شہریوں کے لیے “نو گو ایریا” بن گیا

**کراچی (HRNW):** کراچی کے علاقوں کورنگی اور شاہ فیصل کالونی کو ملانے والا اہم ترین پل جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر آگیا ہے۔ ہفتے کی شب مسلح ڈاکوؤں کے ایک بڑے گروہ نے ناکہ لگا کر درجنوں راہگیروں کو سرِعام لوٹ لیا، جس نے شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

### **واقعے کی تفصیلات اور وائرل ویڈیو**
ہفتے کی شب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے:
* **مسلح گروہ کا راج:** ویڈیو بنانے والے شہری کے مطابق، کلاشنکوفوں سے لیس **10 سے 12 ڈاکوؤں** نے پل کے بیچوں بیچ ناکہ لگا رکھا تھا اور ہر گزرنے والے کو اپنا نشانہ بنا رہے تھے۔
* **ٹریفک جام اور لوٹ مار:** ڈاکوؤں نے پل پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک روک دیا، جس کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ 12 سے 15 مسلح افراد ٹولیوں کی شکل میں شہریوں سے نقدی، موبائل فون اور دیگر قیمتی سامان چھینتے رہے۔

### **شہریوں کے لیے “نو گو ایریا”**
عینی شاہدین اور مقامی افراد نے بتایا کہ یہ پل اب شہریوں کے لیے ایک خطرناک گزرگاہ بن چکا ہے:
* **منظم طریقہ واردات:** ڈاکو منظم طریقے سے پل پر ناکہ لگاتے ہیں اور ٹریفک بلاک کر کے اطمینان سے وارداتیں انجام دیتے ہیں۔
* **پولیس کی عدم موجودگی:** متاثرہ شہریوں نے شکایت کی کہ اتنی بڑی واردات کے دوران پولیس یا رینجرز کی کوئی موبائل وہاں نظر نہیں آئی، جس کی وجہ سے ڈاکوؤں کو فرار ہونے کا بھرپور موقع ملا۔

### **خوف و ہراس کا ماحول**
کورنگی اور شاہ فیصل کالونی کے سنگم پر واقع یہ پل روزانہ ہزاروں شہریوں کی گزرگاہ ہے، لیکن مسلسل وارداتوں نے اسے ایک تزویراتی “نو گو ایریا” میں تبدیل کر دیا ہے۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ پل پر مستقل پولیس چوکی قائم کی جائے اور اس منظم گروہ کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے۔

**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!** دنیا کے نمبر ون انسانی حقوق کے نیوز پورٹل **HRNW (Human Rights News Worldwide)** کی حمایت کریں۔ ہماری صحافت کا مقصد مظلوموں کی داد رسی اور انصاف کا حصول ہے۔

**ہماری مالی معاونت اور سپورٹ کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں