توہینِ مذہب کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت خارج، عدالت کا اہم فیصلہ

لاہور(ایچ آراین ڈبلیو) لاہور ہائی کورٹ کے معزز جج مسٹر جسٹس محمد جواد ظفر نے توہینِ مذہب کے ایک مقدمے میں ملزم کی ضمانت خارج کر دی۔ ملزم کی جانب سے وکالت عثمان کریم الدین شیخ ایڈووکیٹ نے کی۔

دورانِ سماعت ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اعجاز اسحاق کی جانب سے توہینِ مذہب کے بعض مقدمات پر کمیشن بنانے کا حکم دیا گیا تھا، اسی بنیاد پر کیس کو مزید انکوائری میں فعال سمجھا جانا چاہیے۔ وکیل کے مطابق اسی حکم کے تحت سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے ماضی میں بعض ملزمان کو ضمانت پر رہا کیا تھا۔

تاہم مدعی مقدمہ کے وکیل شیخ محمد نواز ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم کے وکیل نے قانونی حقائق چھپا کر ضمانت حاصل کی۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ اعجاز اسحاق کا مذکورہ حکم معطل ہو چکا ہے اور جن مقدمات پر ہیومن رائٹس کمیشن نے اعتراضات اٹھائے تھے، ان میں یہ کیس شامل نہیں۔

سرکار کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم توہینِ مذہب، توہینِ قرآن اور توہینِ رسالت پر مبنی مواد سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کا مرتکب ہوا ہے۔ مزید یہ کہ ملزم نے اپنی بیوی کی تصویر ایڈٹ کر کے مختلف گروپس میں شیئر کی۔

عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ملزم اور مدعی کے موبائل فونز کی فرانزک رپورٹ میں تمام الزامات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ مقدمے میں اب تک 9 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں، جبکہ ملزم کے وکیل کی جانب سے جرح نہیں کی جا رہی۔

تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزم کی ضمانت خارج کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں