**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایک اہم عدالتی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی عدالتی آرڈر کسی فریق کے خلاف ہو تو اس کی سکروٹنی کے لیے قانونی فورمز پہلے سے موجود ہیں۔ انہوں نے تاکید کی ہے کہ کسی بھی ٹھوس مواد کے بغیر محض ہلکے انداز میں آرڈر جاری کرنے والے جج کی دیانتداری یا ارادوں پر سوال اٹھانا یا اعتراض کرنا ممکن نہیں ہے۔
یہ ریمارکس ثناء یوسف قتل کیس کے ٹرائل کے دوران سامنے آئے ہیں۔ عدالت نے ٹرائل جج پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیس کو دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔
—
**تعاون کی اپیل:**
انسانی حقوق اور عوامی مسائل کی بروقت آواز بننے کے مشن میں دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل **HRNW** کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کے فروغ اور مظلوموں کی آواز بننے کے سفر کو جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے۔
ہماری مدد کے لیے اس لنک پر کلک کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


