کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ ہائیکورٹ نے بلدیاتی نمائندوں کو قانون کے مطابق اپنے دائرہ اختیار میں وال چاکنگ، پوسٹرز اور بینرز ہٹانے کا حکم دیدیا ہے۔
عدالت عالیہ سندھ کے آئینی بینچ میں وال چاکنگ، پوسٹرز اور پولز پر بینرز لگانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے اس معاملے پر چیف سیکریٹری سندھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے 2014ء میں سندھ ڈیفیسمنٹ آف پراپرٹی ایکٹ منظور کیا تھا، جس کے تحت پبلک پراپرٹی، سڑکوں اور دیواروں پر چاکنگ، پوسٹرز اور بینرز لگانا جرم ہے۔
وکیل نے مزید کہا کہ 12 سال بعد بھی ٹاسک فورس تشکیل نہیں دی گئی، اور ایکٹ کے تحت مقرر جرمانے اور سزائیں آج تک نافذ نہیں ہو سکیں، نہ ہی کسی کے خلاف کارروائی عمل میں آئی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے اس حکم سے مقامی حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قانون کے مطابق فوری اور موثر اقدامات کریں تاکہ شہر میں غیر قانونی چاکنگ اور بینرز کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔


