ٹریفک پولیس اہلکاروں کی مبینہ زیادتی، عدالت نے شہری کے حق میں فیصلہ سنایا

ساہیوال(ایچ آراین ڈبلیو)ساہیوال سے رائے قمر عباس بشیرا کی رپورٹ کے مطابق ایک غریب محنت کش شہری کے ساتھ ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے مبینہ زیادتی کا معاملہ سامنے آیا، جس میں متاثرہ شہری نے انصاف کے لیے عدالت سے رجوع کیا اور بالآخر اسے ریلیف مل گیا۔

متاثرہ شہری کے مطابق وہ رات گئے محنت مزدوری کے بعد گھر واپس جا رہا تھا کہ راستے میں ٹریفک پولیس کے کانسٹیبل محمد ممتاز اور کانسٹیبل محمد عطر نے اسے روک لیا۔ شہری نے الزام لگایا کہ اہلکاروں نے بلاجواز 6000 روپے کا چالان کیا اور جھوٹی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر دی۔ دوران چیکنگ اس کی جیب سے نقدی بھی نکال لی گئی اور اس کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔

شہری نے عدالت سے رجوع کیا، جہاں معزز جج خواجہ مھد حسن نے کیس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد شہری کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے جھوٹی ایف آئی آر کو خارج کر دیا۔

متاثرہ شہری نے انصاف کی فراہمی پر عدالت اور جج صاحب کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہیں بروقت انصاف ملا، جس پر وہ بے حد مشکور ہیں۔ شہری نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سے لی گئی نقدی واپس کروائی جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شہری نے مزید بتایا کہ مذکورہ اہلکار بغیر کسی سینئر افسر کی موجودگی کے ناکہ لگا کر اپنی مرضی سے شہریوں کے چالان کر رہے تھے اور ان کے ساتھ زیادتی کر رہے تھے، جس کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔

وکلا برادری اور صحافی برادری نے بھی اس ظلم کی نشاندہی کی اور انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا۔ عوامی حلقوں نے بھی اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کے ساتھ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں