کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) عدالت نے این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر کا عارضی چارج جونیئر افسر کو دینے کے خلاف درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپریل 2025 میں گریڈ 20 کے عہدے کا عارضی چارج جونیئر افسر کو دینا غیر قانونی تھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ سینیئر ترین اہل افسر کو عارضی چارج دیا جائے۔
درخواست گزار شہزاد حیدر، بطور سینیئر ایڈیشنل ڈائریکٹر، اس عارضی چارج کے لیے اہل تھے۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ سینیئر افسر کی موجودگی کے باوجود جونیئر افسر کو چارج دینا امتیازی سلوک اور سینیارٹی، شفافیت اور مساوی مواقع کے منافی ہے۔
سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عارضی چارج کا فیصلہ انتظامی نوعیت کا ہے اور اس کے خلاف شکایت سروس ٹریبونل کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ معاملہ صرف سروس نہیں بلکہ قانونی اختیار اور تشریح سے متعلق بھی ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے خاتمے اور عملے کے این سی سی آئی اے میں منتقل ہونے کے بعد، بادی النظر میں انتظامی حکم کے ذریعے کسی افسر کو واپس ایف آئی اے بھیجنا غیر قانونی ہوگا۔
عدالت نے ہدایت دی کہ:
باقاعدہ ترقی ہونے تک ڈائریکٹر کا عارضی چارج سینیئر ترین اہل افسر کو دیا جائے۔
درخواست گزار کی خدمات ایف آئی اے کے سپرد کرنے کے اقدام پر دو ہفتوں کے اندر نظر ثانی کی جائے۔
یہ فیصلہ این سی سی آئی اے میں شفافیت اور سینیارٹی کے اصولوں کی حفاظت کے لیے سنگ میل ثابت ہو گا۔


