**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** کراچی کی ایڈیشنل سیشن کورٹ نمبر 2 (ساؤتھ) نے جعلی کرنسی نوٹ رکھنے اور مارکیٹ میں چلانے کے الزام میں گرفتار ملزم میر محمد مگسی کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی ہے۔
### **دفاعی وکیل کے دلائل اور قانونی نکات**
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے عدالت میں مضبوط دلائل پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا موکل بے گناہ ہے اور اس کے خلاف کیس کے شواہد میں کئی تضادات موجود ہیں:
* **شواہد کی کمی:** ایف آئی آر میں ان جعلی نوٹوں کے سیریل نمبر درج نہیں کیے گئے جو مبینہ طور پر برآمد ہوئے، اور نہ ہی ان افراد کے نام یا بیانات ریکارڈ پر ہیں جنہیں جعلی نوٹ دینے کا دعویٰ کیا گیا۔
* **پولیس گردی کا الزام:** وکیل نے الزام لگایا کہ پولیس نے تلاشی کے بہانے روک کر شناختی کارڈ طلب کیا اور رشوت نہ دینے پر ملزم کو **89 ہزار روپے** کی جعلی کرنسی کے جھوٹے کیس میں پھنسا دیا۔
* **غیر جانبدار گواہان کی عدم موجودگی:** برآمدگی کے وقت کسی بھی نجی شخص (Private Witness) کو گواہ نہیں بنایا گیا، تمام گواہ پولیس اہلکار ہیں جس سے پراسیکیوشن کا کیس مشکوک ہو جاتا ہے۔
### **عدالتی احکامات کی خلاف ورزی**
ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ایک سال سے بغیر ٹرائل کے جیل میں ہے۔ اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ نے ٹرائل کو تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن اس کے باوجود پراسیکیوشن گواہ پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مزید برآں، ملزم کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے۔
### **کیس کا پس منظر**
واضح رہے کہ ملزم میر محمد مگسی کے خلاف تھانہ ٹیپو سلطان میں ایف آئی آر نمبر **127/2025** درج کی گئی تھی، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات **489-B** اور **489-C** (جعلی کرنسی کا استعمال اور قبضہ) شامل تھیں۔ عدالت نے تمام شواہد اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
—
### **آزاد صحافت کا ساتھ دیں**
**ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی (HRNW)** دنیا کا نمبر 1 انسانی حقوق کا نیوز پورٹل ہے، جو عدالتی کارروائیوں اور انصاف کے حصول کے لیے ہر آواز کو دنیا تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
👉 **[Support HRNW: hrnww.com/support-us](https://hrnww.com/support-us)**


