اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) وفاقی حکومت نے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا حتمی پلان تیار کر لیا ہے، جس کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے۔
حکومتی مسودے کے مطابق تعلیمی اداروں، سرکاری و نجی دفاتر اور تجارتی سرگرمیوں کے اوقات کار میں نمایاں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، جبکہ توانائی اور فیول کی بچت کے لیے بھی سخت اقدامات شامل ہیں۔
پلان کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
بازار اور شاپنگ سینٹرز رات 9:30 بجے بند ہوں گے۔
شادی ہالز اور فنکشنز رات 10 بجے تک محدود رہیں گے، جہاں ون ڈش اور 200 افراد کی حد کی پابندی ہوگی۔
ہائبرڈ ورکنگ پالیسی کے تحت سرکاری دفاتر (5 ورکنگ ڈے) ہفتے میں 3 دن آفس اور 2 دن آن لائن کام کریں گے۔
سروسز دفاتر (6 ورکنگ ڈے) میں 4 دن آفس اور 2 دن آن لائن ورکنگ ہوگی۔
دفاتر میں 50 فیصد روٹا سسٹم نافذ کیا جائے گا تاکہ آمدورفت کم ہو اور وسائل کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ نظام ایک ماہ کے لیے نافذ کیا جائے گا اور اس کے اثرات کے مطابق مستقبل میں مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ فیصلہ توانائی کے بحران اور فیول کی بچت کے پیش نظر کیا گیا ہے، تاکہ ملک میں توانائی کی کمی کے مسئلے پر فوری قابو پایا جا سکے۔


