کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)محکمہ صحت سندھ کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز، ویکٹربورن ڈیزیزنےصوبے میں ڈینگی کی صورتحال پر تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 23 اپریل 2026 تک سندھ بھر میں ڈینگی کے تصدیق شدہ کیسز میں مجموعی طور پر خاطرخواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق 23 اپریل کی یومیہ رپورٹ میں صوبے کے کسی بھی ضلع سے نیا ڈینگی کیس سامنے نہیں آیا، تاہم سال کے آغاز سے اب تک کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ کنٹرول میں ہے۔رپورٹ کے مطابق کراچی ڈویژن میں مجموعی طور پر 183 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اب تک ایک ہی ہلاکت سامنے آئی ہے۔ کراچی کے مختلف اضلاع میں کیسز کی تفصیل کچھ یوں ہے:
ضلع شرقی: 66 کیسز
ضلع جنوبی: 39 کیسز
ضلع وسطی: 38 کیسز
سندھ کے دیگر ڈویژنز میں کیسز کی تعداد نمایاں طور پر کم رہی:
حیدرآباد ڈویژن: 18 کیسز
میرپورخاص ڈویژن: 9 کیسز
لاڑکانہ ڈویژن: 2026 میں اب تک کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا
سکھر / خیرپور: مجموعی طور پر 3 کیسز
ماہِ اپریل کے دوران کراچی ڈویژن میں مجموعی طور پر 21 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 11 کیسز صرف ضلع شرقی سے رپورٹ ہوئے۔ صوبے کے بیشتر دیگر اضلاع میں اپریل کے دوران یا تو کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا یا صرف ایک کیس سامنے آیا، جو دیہی اور بالائی سندھ میں صورتحال کے مستحکم ہونے کی علامت ہے۔
محکمہ صحت نے اگرچہ یومیہ کیسز صفر ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم درجہ حرارت میں اضافے کے پیش نظر شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ویکٹر بورن ڈیزیز (VBD) ونگ کی جانب سے مچھروں کی افزائش روکنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر جاری کی گئی ہیں:
احتیاطی ہدایات
کھڑے پانی کا خاتمہ: پانی کی ٹنکیوں، گملوں اور پرانے ٹائروں میں پانی جمع نہ ہونے دیں اور انہیں ڈھانپ کر رکھیں۔ذاتی تحفظ: مچھر بھگانے والے لوشن استعمال کریں اور خصوصاً صبح و شام کے وقت پوری آستین والے کپڑے پہنیں۔
عوامی تعاون: شہری مقامی فیومیگیشن ٹیموں اور محکمہ صحت کے عملے کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔محکمہ صحت کے مطابق حکومتِ سندھ صورتحال کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کر رہی ہے تاکہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ڈینگی وائرس کو وبائی شکل اختیار کرنے سے روکا جا سکے۔


