پردہ پارک منصوبہ ادھورا، سہولیات کی فراہمی ٹاؤن کی ذمہ داری بن گئی،چیئرمین محمد یوسف

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے سیکٹر 11-D یو سی 11 میں عالمی مالیاتی ادارے (کلک )کے تعاون سے تعمیر ہونے والے پردہ پارک کا دورہ کیا اور منصوبے میں موجود خامیوں پر برہمی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر، B&R ڈیپارٹمنٹ کے افسر فیصل صغیر، پارک اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین توقیر خان سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔چیئرمین محمد یوسف نے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ پارک عالمی بینک کے ذیلی ادارے (کلک )کے تحت تقریباً آٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا اور بعد ازاں نیو کراچی ٹاؤن کے حوالے کر دیا گیا، تاہم منصوبے کی تکمیل معاہدے کے مطابق نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں پارک کی تزئین و آرائش، شجرکاری، اور بالخصوص سولر سسٹم کے ذریعے بجلی کی فراہمی شامل تھی، تاکہ رات کے اوقات میں شہری بلا خوف و خطر پارک سے مستفید ہو سکیں، مگر ان بنیادی سہولیات کو نظر انداز کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ صرف چار دیواری کھڑی کر دینا کسی منصوبے کی تکمیل نہیں کہلا سکتا۔ اصل مقصد عوام کو محفوظ، روشن اور سہولیات سے آراستہ تفریحی مقام فراہم کرنا تھا جو تاحال پورا نہیں ہوا۔چیئرمین نے مزید کہا کہ اب نیو کراچی ٹاؤن اپنی محدود مالی وسائل کے باوجود اس پارک کی بہتری اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہا ہے تاکہ عوام کو بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔محمد یوسف نے اس موقع پر شفافیت کے حوالے سے بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عالمی اداروں کی جانب سے مقامی حکومتوں پر عدم اعتماد کا تاثر دیا جاتا ہے، لیکن آٹھ کروڑ روپے کی خطیر رقم کے باوجود کام کا معیار سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے حکومتِ سندھ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس منصوبے کا آڈٹ کیا جائے اور ذمہ داروں کا تعین کر کے عوام کے سامنے حقائق لائے جائیں۔بعد ازاں چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے 4000 روڈ کا دورہ کیا جہاں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی جانب سے ڈسپوزل پوائنٹ کے قیام کے لیے جاری کھدائی کے کام کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم نے بھاری فنڈز سے اس سڑک کی تعمیر کروائی تھی، تاہم سیوریج کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے اگر اسے دوبارہ کھولنا پڑا ہے تو یہ ایک ناگزیر مگر عوامی مفاد کا اقدام ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ نیو کراچی ٹاؤن میں ترقیاتی کاموں کا دائرہ وسیع ہے اور سیوریج کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ پہلے بنیادی مسائل حل کیے جائیں، تاکہ آئندہ تعمیر ہونے والی سڑکیں اور دیگر انفراسٹرکچر دیرپا ثابت ہوں۔چیئرمین نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ 5100 روڈ کی تعمیر کا منصوبہ بھی جلد شروع ہونے جا رہا ہے اور کے ایم سی کی جانب سے سیوریج کے نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات خوش آئند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ“جب تک بنیادی ڈھانچے کو درست نہیں کیا جائے گا، شہری سہولیات میں بہتری ممکن نہیں، اس لیے عوام کو وقتی مشکلات برداشت کرتے ہوئے ان منصوبوں کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔آخر میں انہوں نے کہا کہ نیو کراچی ٹاؤن کی بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے، تاکہ علاقہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں