لاہور ہائیکورٹ،منی لانڈرنگ کیس میں شہبازشریف،حمزہ شہبازکے خلاف درخواست خارج

لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)ہائیکورٹ میں ایف آئی اے کےمبینہ منی لانڈرنگ کیس میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف سمیت دیگر ملزمان کی بریت کے خلاف دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے عدالت نے درخواست خارج کر دی۔

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے درخواست پر بطور اعتراض سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے کہا کہ پہلے آفس اعتراضات پر دلائل دیے جائیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سال 2022 میں بریت ہو چکی ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی پانچ یا چھ سال بعد اپیل دائر کر دے؟ کیا عدالت کوئی نیا قانون بنا دے؟

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق اپیل دائر کی جا سکتی ہے، تاہم چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بریت کو کتنے سال ہو چکے ہیں؟ وکیل عامر سعید راں نے بتایا کہ چار سال گزر چکے ہیں اور اس وقت شہباز شریف وزیرِ اعظم پاکستان ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ جو تحریری فیصلہ پیش کیا گیا ہے وہ سپرداری کے معاملات سے متعلق ہے، نہ کہ بریت کے خلاف تاخیر سے دائر اپیل کے جواز سے۔ عدالت نے آفس اعتراض برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

واضح رہے کہ درخواست گزار وشال شاکر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کو ٹرائل کا سامنا کرنے کے لیے طلب کیا جائے، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو قابلِ سماعت نہیں سمجھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں