پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں کسی کو بھی بے گھر نہیں ہونے دے گی، نثارکھوڑو

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان پیپلز۔پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو، نومنتخب سینیٹر و جنرل سیکرٹری پیپلز پارٹی سندھ سید وقار مہدی اور وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں کسی کو بھی بے گھر نہیں ہونے دے گی۔ کوآپریٹو فارمنگ سندھ حکومت کا کام ہے اس میں وفاق کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سندھ کے اشیوز کو اجاگر کیا ہے اور آئندہ بھی سندھ کے مسائل کے حل کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں رہنمائوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی میں سینیٹ کے ضمنی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ارکان سندھ اسمبلی اور پیپلز۔پارٹی کے صوبائی و کراچی کے عہدیداران و کارکنان کی بڑی تعداد بھی ان کے ہمراہ موجود تھی۔ نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ آج ہمارے بہت پرانے ساتھی سید وقار مہدی سینیٹ میں سینیٹر تاج حیدر کے انتقال کے بعد جگہ خالی ہونے والی نشست پر کامیاب ہوئے ہیں، جس میں اپنی پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے پارٹی کے ایک سنئیر عہدیدار کو ٹکٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سید وقار مہدی پہلے بھی ایک سال 3 ماہ کے عرصے کے لیئے سینیٹر بنے تھے اور اس بار بھی وہ کچھ عرصہ کے لئے سینیٹر منتخب ہوئے ہیں اور امید ہے کہ آئندہ سینیٹ کے انتخابات میں وہ مکمل سینیٹر بھی منتخب ہوں گے۔ نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ آج کے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے سندھ اسمبلی میں 116 ارکان میں سے 113 نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جبکہ ہمارے تین ممبران ملک سے باہر تھے۔ نتائج کے مطابق ہمارے دو ارکان کے ووٹ خارج ہوئے اور سید وقار مہدی کو 111 ووٹ ملے جبکہ ان کے مدمقابل ایم کیو ایم کی خاتون امیدوار کو 36 ووٹ ملے۔ اس طرح سید وقار مہدی کو 85 ممبران کی برتری حاصل رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا حق تھا انہوں نے حق ادا کیا اور ایم کیو ایم کے 36 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ سنی اتحاد کونسل اور جماعت اسلامی نے اس جمہوری عمل کا بائیکاٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سید وقار مہدی تمام کی امیدوں پر پورا اترے گا اور مجھے خوشی ہے دوسری بار منتخب ہوا پارلیمنٹرین نے ایک سو گیارہ ووٹ دے کر کامیاب کیا۔ اس موقع پر نومنتخب سینیٹر سید وقار مہدی نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کوشش کی سندھ کے حقوق کو ہائی لائٹ کروں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ بار بھی جب میں سینیٹر تھا میں نے سندھ کے حقوق اور یہاں کے مسائل کے حل کے لئے آواز اٹھائی تھی اور آئندہ بھی اپنی پارٹی کے منشور اور وژن کے تحت سندھ کے عوام کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر سال وفاقی بجٹ میں سندھ کا حصہ بہت کم رکھا جاتا ہے۔ گیس سندھ سے نکلتی ہے لیکن سندھ کو اس کے حصہ کی گیس نہیں دی جاتی ہے۔ سندھ میں بجلی کا بڑا مسئلہ ہے میں ان تمام ایشوز کو سینٹ میں اٹھاؤں گا اور سینیٹ میں سندھ کا مقدمہ سینٹ میں لڑتا رہوں گا اور سندھ کے مسائل پر آواز بلند کرتا رہوں گا۔ ایک سوال کے جواب میں نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ کوآپریٹو فارمنگ خالص سندھ حکومت کا کام ہے اس میں وفاق کا کوئی معاملہ ہی نہیں ہے اور سندھ حکومت سندھ کے عوام کو فائدہ پہنچانے اور زیادہ سے زیادہ زمین کو کاشت کے قابل بنانے کے لئے تمام اقدامات بروئے کار لائے گی تاکہ یہاں کے لوکل لوگوں کو فائدہ پہنچ سکے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کے پی ٹی کی جانب سے جو نوٹسز کا اجراء کیا گیا ہے وہ زمین سندھ حکومت کی ہے اور ان کو ہم سے بات کرنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کا واضح اور دو ٹوک موقف ہے کہ ہم کسی کے گھر کو اجاڑنے کے کسی صورت حق میں نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں