کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)تقریباً 30 سال پرانی عمارت ‘بھایانی پرائیڈ’ (پلاٹ نمبر GRE-369) پر چھٹی اور ساتویں منزل کی غیر قانونی تعمیرات نے مکینوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
علاقہ مکینوں کی جانب سے ایڈووکیٹ ندیم احمد جمال نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے پورٹل پر شکایت نمبر SCRM-20260316-6 درج کرائی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ بلڈنگ بائی لاز کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے پرانی بنیادوں پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔
شکایت میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ غیر قانونی تعمیرات سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979 اور کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز کی صریح خلاف ورزی ہیں، کیونکہ 30 سال پرانی عمارت پر بغیر اسٹرکچرل اسٹیبلٹی سرٹیفکیٹ اور منظور شدہ نقشے کے اضافی منزلیں بنائی جا رہی ہیں۔
مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ تمام خلاف ورزیاں SBCA کے ڈائریکٹر شاہد خشک اور دیگر افسران کی مبینہ سرپرستی میں جاری ہیں، جو بلڈرز کو رشوت اور ناجائز مراعات کے عوض قانون پامال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔
مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ غیر قانونی تعمیر فوری طور پر روکی جائے۔بغیر اجازت کی گئی اضافی منزلیں سیل اور مسمار کی جائیں۔کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو انسانی جانوں کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔


