جرمن اسکول اورنگی ٹاؤن پر قبضے اور غیرقانونی لیز کے خلاف درخواست

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائیکورٹ میں اورنگی ٹاؤن میں قائم جرمن اسکول پر مبینہ قبضے اور غیرقانونی لیز کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سماعت کے دوران معزز جج جسٹس مبین لاکھو نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے احکامات پر بار بار مہلت مانگی جا رہی ہے لیکن عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ جسٹس مبین لاکھو نے کہا کہ آپ کی وجہ سے سرکاری ادارے تباہ ہو رہے ہیں اور عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔

عدالت نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر چیف سیکرٹری سندھ اور ڈپٹی کمشنر ویسٹ کو طلب کر لیا۔

درخواست گزار کے وکیل سعیدالزماں ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ نے سال 2024 میں ایک کمیٹی بنانے، غیرقانونی لیز ختم کرنے اور تجاوزات کے خاتمے کا حکم دیا تھا، جبکہ ادارے کو چلانے کے لیے معززین پر مشتمل کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی تھی، تاہم تاحال کسی حکم پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

عدالت نے متعلقہ سیکشن آفیسر سے سوال کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل کیوں نہیں ہوا، جس پر سرکاری افسر نے مزید مہلت کی استدعا کی، تاہم عدالت نے اس طرزِ عمل پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔

بعد ازاں عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ اور ڈی سی ویسٹ کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ جرمن اسکول پر مبینہ قبضے کے خلاف یہ درخواست 2017 میں ماسٹریونس مسیع کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں