کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) کراچی کے علاقے شیر شاہ گلبائی فلائی اوور چوک کے نیچے پیش آنے والا دردناک ٹریفک حادثہ شہر کی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹریفک نظام کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔ تیز رفتار اور بےقابو ڈمپر نے ایک موٹرسائیکل سوار خاندان کو کچل دیا، جس کے نتیجے میں 10 سالہ معصوم بچی موقع پر ہی جاں بحق جبکہ اس کے والد (35 سالہ رضوان) اور والدہ (30 سالہ لارین) شدید زخمی ہو گئے۔
سابق نائب صدر تحریک انصاف سندھ، رضوان خانزادہ نے واقعے پر شدید دکھ اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
“یہ پہلا واقعہ نہیں، آئے روز کراچی کی سڑکوں پر بےلگام ڈمپرز اور ٹرالرز شہریوں کی جانیں نگل رہے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتی سرپرستی میں کچھ بےضمیر عناصر نے ان مسائل پر خاموشی اختیار کر لی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج کا شکار ایک عام شہری تھا – ورنہ حکمرانوں کی اولادیں ان سڑکوں پر محفوظ گاڑیوں میں سفر کرتی ہیں۔”
رضوان خانزادہ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے فوری طور پر ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا:
“ہم بار بار اپیل کر چکے ہیں، اب شرم محسوس ہوتی ہے مگر امید ابھی باقی ہے۔ خدارا! کراچی کے شہریوں کو مرنے کے لیے نہ چھوڑا جائے۔ ہر دن کوئی نہ کوئی خاندان ڈمپر کے نیچے آ رہا ہے، لیکن حکام خوابِ غفلت میں ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں جاری ٹریفک دہشت گردی، بڑھتی مہنگائی، بجلی و پانی کی بندش، تعلیم و صحت کی تباہی، اور بےروزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
“اگر کوئی خوش ہے تو وہ صرف وہ لوگ ہیں جو حرام کی کمائی میں شامل ہیں۔ ہم ایک بار پھر پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈمپرز، ٹرالرز، اور بھاری گاڑیوں پر فوری ضابطہ اخلاق بنایا جائے، سخت قانون سازی ہو، اور متعلقہ اداروں کو جوابدہ بنایا جائے۔”


