طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ ہائی کورٹ میں طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس دوران عدالت نے درخواست کو جرمانے کے ساتھ مسترد کر دیا۔

عدالت نے درخواست گزار کو دس ہزار روپے جرمانہ سندھ ہائی کورٹ کے کلینک میں جمع کروانے کا حکم جاری کیا۔ سماعت کے دوران جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ طلبہ یونین کی بحالی کیوں چاہتے ہیں؟ تعلیم پہلے ہی تباہ ہے، آپ اسے مزید کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں؟

عدالت نے سوال اٹھایا کہ طلبہ یونین کا اصل مقصد اور فائدہ کیا ہے؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یونین کا مقصد طلبہ کو پالیسی سازی میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔

جسٹس عدنان الکریم میمن نے استفسار کیا کہ جس طرح فیکٹریوں میں یونین ہوتی ہے، کیا طلبہ وائس چانسلر کو دھمکانا چاہتے ہیں؟ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ درخواست گزار کی موجودہ حیثیت کیا ہے اور آیا وہ اب بھی طالبعلم ہیں یا نہیں۔

عدالت نے فائل کا جائزہ لیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس میں 2021 کے دستاویزات موجود ہیں، جس پر درخواست کی سنجیدگی پر سوال اٹھتا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دے دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں