وہاڑی(ایچ آراین ڈبلیو)ڈی ایچ کیو ہسپتال وہاڑی میں عوام علاج کے لیے آتے ہیں، مگر یہاں ایک پرچی وصول کرنے والا ملازم طارق مبینہ طور پر نظام کا خود ساختہ مالک بن بیٹھا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ ملازم نے خود کو ایم بی بی ایس ڈاکٹروں سے بھی زیادہ بااختیار سمجھنا شروع کر دیا ہے۔
طریقہ کار کے مطابق ڈاکٹر اورنگزیب اور ڈاکٹر احمد ذی وقار کے باہر تعینات یہ ملازم مریضوں کے ساتھ بدتمیزی، گالم گلوچ، دھکے اور توہین آمیز رویہ اختیار کرتا ہے۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے بزرگ، خواتین اور غریب مریض روزانہ اس رویے کا سامنا کرتے ہیں۔ پرچی دینے یا فائل آگے بڑھانے جیسے کام صرف اس کی مرضی سے ہوتے ہیں۔
مریضوں اور لواحقین کا کہنا ہے کہ جو خاموش رہتے ہیں، وہ لائن میں کھڑے رہتے ہیں، اور جو سوال کرتے ہیں، انہیں تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملازم خود کو ناقابلِ احتساب سمجھتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔
یہ صورتحال انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ شہری و سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری صحت اور ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال وہاڑی سے فوری اور غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو سرکاری ہسپتال عوام کے لیے اذیت گاہ بن جائیں گے۔
عوام نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا بیمار انسان کی عزت سرکاری ہسپتال میں کوئی معنی نہیں رکھتی؟


