کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) محمودأباد تھانے میں مبینہ جنسی زیادتی کی شکایت لے کر آنے والی خاتون ایس ایچ او اور پولیس اہلکار کی ہراسانی کا شکار ہو گئیں۔ متاثرہ خاتون نے ایس ایس پی ایسٹ و آئی جی سندھ سے انصاف کی اپیل کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، اعظم بستی کی رہائشی خاتون (ن) جنسی زیادتی کی شکایت اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کروانے محمود آباد تھانے پہنچی، جہاں پولیس نے اس کی شکایت سننے کے بجائے اسے ہراساں کر کے تھانے سے نکال دیا۔
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزمان محسن اعوان اور امن شاہ نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے، اور وہ ان کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے چار دنوں سے محمود آباد تھانے کے چکر لگا رہی ہے۔متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او اعجاز خان اور اہلکار سندر خان میری فریاد سننے کے بجائے میرےخلاف مقدمہ درج کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔
متاثرہ خاتون کے مطابق اہلکار سندر نے اسے آدھے گھنٹے تک یرغمال بنایا، اس سے موبائل فون چھین لیا اور الزام لگایا کہ اس نے پولیس کی ویڈیو ریکارڈ کی ہے، جس کے بعد اسے تھانے سے باہر نکال دیا گیا۔
متاثرہ خاتون نے ایس ایس پی ایسٹ فرخ رضا اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے مطالبہ کیا ہے کہ زیادتی کے ملزمان اور ایس ایچ او محمود آباد اعجازخان، اہلکار سندر خان کے خلاف کارروائی کر کے انصاف و تحفظ فراہم کیا جائے۔


