راولپنڈی(ایچ آراین ڈبلیو)تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ مخالفین کے ساتھ دشمنی نہیں بلکہ صلح صفائی بہتر ہے، مگر حکومت اگر ایک ہاتھ بڑھائے اور دوسرے سے مکا مارے تو حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، اگر ہوا تو اسے چھپایا نہیں جائے گا۔
نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ خیبرپختونخوا میں الزامات نہ لگائے جائیں اور جو الزامات لگائیں ان کے ثبوت بھی پیش کریں۔
مقدمات سے متعلق بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 17 جنوری 2025 کو القادر میں سزا ہوئی مگر ایک سال سے اپیل زیر التواء ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ابھی تک ضمانت نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، تو پھر سزا کیوں دی گئی؟
گوہر خان نے مزید کہا کہ حکومت کو دونوں ہاتھ ملانے چاہیے تاکہ معاملات حل ہوں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 8 فروری کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا جائے گا اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا۔ عوام سے اپیل کی کہ شٹر ڈاؤن یا پہیہ جام کرنے جیسی کارروائیاں نہ کریں۔
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈرز کا نوٹیفکیشن آئینی فریضہ تھا، کسی پر احسان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین پامال، عدلیہ محکوم اور انتخابات بے معنی ہو چکے ہیں۔ کراچی میں ہونے والے سانحات کو کرپشن اور سنگدلی کا نتیجہ قرار دیا اور عالمی سطح پر بانی پی ٹی آئی کو تنہائی میں رکھنے کا معاملہ اٹھانے کا عندیہ دیا۔
پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی نے کہا کہ عہدوں کے لیے نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملاقات کیوں نہیں کرائی جا رہی، اس کا جواب چاہتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے ترجمان شفیع جان نے کہا کہ نئے الیکشن مینڈیٹ کی واپسی تک 8 فروری کی کال واپس نہیں لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر منتخب کیا گیا ہے، یہ سلیکٹ نہیں بلکہ الیکٹ ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے کارکن کسی نتیجے کے بغیر تحریک جاری رکھیں گے اور جدوجہد مسلسل جاری رہے گی۔


