راجہ ناصر عباس اپوزیشن لیڈر مقرر، غیرت کے نام پر قتل کا بل اور تولیدی صحت پر بل منظور

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)ایوان بالا میں مجلس وحدت المسلمین کےسربراہ اورپی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سینیٹر راجہ ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر مقرر کر دیا گیا۔ سیکرٹری سینیٹ حفیظ اللہ شیخ نے قائد حزب اختلاف کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جبکہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ 32 میں سے 22 اپوزیشن اراکین نے ان کی حمایت کی۔

اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے پر ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ اپنی پہلی تقریر میں راجہ ناصر عباس نے کہا کہ سیاسی بحران کا واحد حل بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے اور جیل میں رکھ کر معاملات آگے نہیں بڑھائے جا سکتے۔ انہوں نے سیاسی قیدیوں کی عام رہائی کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ حکومت کے اچھے اقدامات کی تعریف کریں گے، لیکن ظلم کے خلاف کبھی ساتھ نہیں دیں گے۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر راناثناء اللہ نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو بھلا کر مستقبل کی بہتری کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے اور پاکستان کو لانگ مارچ جیسے بحران سے بچانا چاہیے۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ پنجاب کی جامعات میں بلوچ طلبہ کے داخلوں پر کوئی پابندی نہیں اور کوٹہ مکمل بحال ہے۔

اس دوران سینیٹ نے اہم اور تاریخی قانون سازی بھی کی:

انسدادِ قتل برائے غیرت بل متفقہ طور پر منظور، جس کے تحت غیرت کے نام پر قتل اب ناقابلِ معافی جرم ہوگا اور ریاست خود مقدمات چلائے گی چاہے متاثرہ خاندان معافی دے دے۔

تولیدی صحت بل منظور، جس کے تحت 14 سال سے زائد بچوں کے نصاب میں تولیدی صحت کی تعلیم شامل کی جائے گی۔

نیشنل ٹیرف کمیشن اور ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ فنڈ ترمیمی بل بھی متفقہ طور پر منظور، اپوزیشن نے مخالفت نہیں کی۔

اجلاس بعد ازاں جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں