اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)جعلی مقدمہ یا کرپشن چھپانے کی کوشش؟ خاتون صحافی پریشے خان کی گرفتاری پر سنگین سوالات اٹھادیئے گئے-تفصیلات کیمطابق آوارہ کتوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم خاتون صحافی پریشے خان کو مبینہ طور پر جعلی مقدمے میں گرفتار کر کے جیل بھیجنے کا واقعہ نہ صرف شرمناک اور افسوسناک ہے بلکہ اس نے سی ڈی اے اور اسلام آباد پولیس کے کردار پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی محض ایک قانونی عمل نہیں بلکہ کرپشن اور بدعنوانی کو چھپانے کے لیے پہلے سے طے شدہ سازش کا نتیجہ محسوس ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود میں سی ڈی اے کے زیر انتظام ڈاگ سینٹر میں جانوروں کی دیکھ بھال کے بنیادی انتظامات تک موجود نہیں، نہ مستقل ڈاکٹر تعینات ہے، نہ مناسب ادویات دستیاب ہیں اور نہ ہی خوراک کا کوئی مؤثر نظام نظر آتا ہے۔ آوارہ کتوں کو انتہائی نامناسب، غیر صحت بخش اور تکلیف دہ حالات میں رکھا جا رہا ہے جبکہ ڈاگ سینٹر کے لیے مختص کروڑوں روپے کے فنڈز کے درست استعمال پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون صحافی پریشے خان گزشتہ کئی عرصے سے اپنی جیب سے کتوں کے لیے خوراک اور دیگر ضروری سامان فراہم اور دیکھ بھال کرتی رہی ہیں اور یہی عمل بعض افسران کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گیا کیونکہ اس سے مبینہ کرپشن بے نقاب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے روز خاتون صحافی کو دانستہ طور پر فون کر کے ڈاگ سینٹر بلایا گیا جہاں پہنچتے ہی ان پر کتے چوری کرنے کا من گھڑت الزام لگا کر گرفتار کر لیا گیا اور فوری طور پر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیں تقریباً تیرہ گھنٹے تک تھانہ شہزاد ٹاؤن میں رکھا گیا جہاں نہ صرف ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا بلکہ ایک اے ڈی افسر کی جانب سے بدتمیزی، دباؤ اور مبینہ طور پر مالی مطالبات بھی کیے گئے۔ جب خاتون صحافی نے نہ معافی مانگی اور نہ ہی کسی قسم کے غیر قانونی مطالبے کو قبول کیا تو افسران کو مبینہ طور پر غلط معلومات فراہم کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا۔
ذرائع یہ بھی انکشاف کرتے ہیں کہ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کو اس تمام معاملے میں مس گائیڈ کیا گیا اور انہی کے حکم کا تاثر دے کر ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا حالانکہ اصل حقائق اس کے برعکس ہیں
مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کی جائے، ڈاگ سینٹر کے تمام اہلکاروں سے انکوائری کی جائے اور آس پاس سی سی ٹی وی فوٹیجز فوری طور پر حاصل کر کے محفوظ کیے جائیں، یہ تعین کیا جائے کہ خاتون صحافی کتنے عرصے سے وہاں آتی رہیں اور اپنی ذاتی رقم سے کتوں کی دیکھ بھال کیسے کرتی رہیں، نیز ڈاگ سینٹر کے لیے مختص کروڑوں روپے کے فنڈز کا مکمل آڈٹ کرایا جائے۔
واقعے پر صحافی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت، انسانی ہمدردی اور جانوروں کے حقوق پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے اور وزیر داخلہ و وزیر اعظم پاکستان سے فوری نوٹس لینے، خاتون صحافی کے خلاف درج ایف آئی آر کو خارج کرنے اور ملوث افسران کے خلاف سخت قانونی و محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کیوں کہ اگر آج ایک خاتون صحافی کو خاموش کرایا گیا تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔


