عورت کی طرف سے جنسی ضعف یعنی نامردی شوہر کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کے حوالے سے عدالت عالیہ پشاور کا ایک اہم اور تاریخ ساز فیصلہ !
تکنیکی بحث سے پہلے قضیہ کے مختصر حقائق ملاحظہ فرمائیں :
مسمات ثناء شاہ نے اپنے شوہر عمیر خطاب کے خلاف عائلی عدالت میں تنسیخ نکاح بر بنیاد نامردی شوہر (جنسی ضعف) و بربنیاد عدم ادائیگی نان و نفقہ و ظلم و جبر دعوی دائر کردیا ۔
کیس شروع ہوا اور مدعا علیہ نے دعوی کا مفصل جواب دیتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات بالخصوص جنسی ضعف والے الزام کو مسترد کیا ، جس پر مدعیہ نے عدالت کو درخواست دی کی میرے شوہر عمر خطاب یعنی مدعا علیہ کا میڈیکل ٹسٹ کرایا جائے کہ وہ جنسی ضعف کا شکار ہے یا نہیں ۔
مدعا علیہ نے اس درخواست کے خلاف کافی دلائل دیئے لیکن عائلی عدالت نے اٹھائیس ستمبر دوہزار اکیس کو شوہر یعنی مدعا علیہ کو میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا اور اس غرض سے عدالت نے ڈسٹرک ہیڈ کوارٹر ہسپتال سیدو شریف کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ یعنی ایم ایس کو مدعا علیہ کے طبی معائنہ بہ غرض جانچ پڑتال جنسی ضعف و عدم ضعف کے لئے میڈیکل بورڈ بنانے واسطے باقاعدہ طور پر خط ارسال کیا اور مقررہ تاریخ پر یا اس سے پہلے رپورٹ جمع کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔
اس 28 ستمبر 2021 کے حکم کو مدعا علیہ نے پشاور ہائی کورٹ ، مینگورہ بنچ (دارالقضاء) ، سوات میں چیلنج کیا ۔
ایپیلٹ عدالت یعنی پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ (دارالقضاء) ، سوات نے اس قضیہ کی تحلیل کے لئے اپنے سامنے مندرجہ ذیل تین سوالات رکھے :
سوال نمبر 1 : کسی شوہر پر اگر بیوی کی طرف سے جنسی ضعف (نامردی) کا الزام لگے تو شوہر کے جنسی ضعف کی جانچ کیسے ہوگی ؟
سوال نمبر 2 : کیا عائلی عدالت کے 28 ستمبر 2021 کے حکم نامہ میں دیا گیا طریقہ کار کہ جس میں اپیل کنندہ/مدعا علیہ کو میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا تھا ، ملکی قانون کے مطابق ہے یا نہیں ؟
سوال نمبر 3 : کیا اپیل کنندہ /مدعا علیہ کے ساتھ ملکی قانون کے مطابق سلوک کیا گیا یا نہیں ؟
ایپیلٹ عدالت نے مذکورہ بالا تینوں سوالات کے ترتیب وار مندرجہ ذیل یوں جوابات تحریر کئے ہیں ؛
سوال نمبر 1 اور 2 کے جواب میں ایپیلٹ عدالت نے تنسیخ نکاح ایکٹ ، 1939 ، کے دفعہ 2 کے شق 5 اور 9 اور شق 9 کے ذیلی شق C کا حوالہ دیا ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ؛ ایک خاتون جس کا نکاح اسلامی شریعت کے مطابق ہوا ہو ، اپنے تنسیخ نکاح کی ڈگری عدالت سے دیگر بنیادوں کے ساتھ ساتھ اس بنیاد پر بھی لے سکتی ہے کہ اس کا شوہر شادی کے وقت سے لے کر تاوقت جنسی ضعف (نامردی) کا شکار ہے ۔
لیکن مذکورہ بنیاد پر دعوی دائر کرنے کے بعد عدالت شوہر کے درخوست پر اسکو ایک سال کی مہلت دے گی کہ شوہر اس عرصہ ایک سال میں عدالت کو مطمئن کرے کہ وہ جنسی طور پر ضعیف (نامرد) نہیں ہے ۔
اسکے ساتھ ساتھ معزز ایپیلٹ عدالت نے ڈاکٹر تنزیل الرحمن کی کتاب مجموعہ قوانین اسلام پر انحصار کرکے یہ نیجہ اخذ کیا ہے کہ مذکورہ قانون میں جو طریقہ کار دیا گیا ہے بعینہ یہی طریقہ کار اسلامی قامون میں بھی درج ہے ۔
مندرجہ بالا بحث کے بعد سوال نمبر 1 اور 2 کے جواب میں عدالت نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عائلی عدالت کا یہ فیصلہ کہ اپیل کنندہ میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہو، نہ صرف غیر قانونی بلکہ قانون کی صریح خلاف ورزی پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر اخلاقی بھی ہے ۔
یہاں پر یاد رہے کہ ایپیلٹ عدالت نے عائلی عدالت کے فیصلے کے ایک اور پہلو سے بھی جائزہ لیا ہے یعنی کہ ریکارڈ کے مطابق اپیل کنندہ یعنی شوہر نے مسمات عزیزہ بی بی کے ساتھ دوسری شادی کی ہے اور اس سے ایک بیٹا بھی ہے سو اگر یہ مذکورہ بالا طریقہ کار اپنایا گیا تو اس سے اس بچے کے جواز پر بھی سوال اٹھے گا اور اسی وجہ سے اپیل کنندہ/مدعا علیہ کو سماجی بے توقیری کا سامنا کرنا پڑے گا اور ساتھ ساتھ اپیل کنندہ/مدعا علیہ سماجی انصاف کے آئینی و قانونی حق سے محروم ہوجائیگا ۔
اب آتے ہیں تیسرے سوال کے جواب کی طرف جس میں معزز ایپیلٹ عدالت نے کہا کہ آئین پاکستان کے دیباچہ ، جو کہ اسکا کا ایک اہم اور مستقل جز ہے ، کے تحت ہر شہری کو اسلام کے مطابق سماجی انصاف کا حق ہے اور آئین کے دفعہ 4 کے مطابق ہر شہری کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائیگا اور کسی شخص کو اس کام کے کرنے پر مجبور نہیں کیا جائیگا جس کو کرنے کا حکم قانون نے نہ دیا ہو ۔
لہذا سوال نمبر 3 کے متعلق اس بحث سے معزز ایپیلٹ عدالت نے یہ اخذ کیا کہ عائلی عدالت نے جنسی ضعف کے تشخیص کا جو طریقہ کار اپنایا ہے وہ قانون میں کہیں مذکور نہیں اور اس بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اپیل کنندہ/مدعا علیہ کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ نہیں کیا گیا کیونکہ اس کو ایسے کام پر مجبور کیا گیا کہ جس کا حکم قانون نہیں دیتا ۔
فیصلہ :
مذکورہ بالا بحث کو مدنظر رکھ کر ایپلیٹ عدالت نے عائلی عدالت-I سوات کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مذکورہ عدالت کو حکم دیا کہ اس قضیہ کو قانون کے مطابق چلائے اور شوہر کے جنسی ضعف ، اگر ہے ، تو اسکی جانچ کے لئے مذکورہ بالا بحث میں قانون کے دیئے گئے درست طریقہ کار کو اپنائے تاکہ فریقین کے درمیان قضیہ کی تحلیل عدل و انصاف کے مطابق ہو ۔
یہ انتہائی اہم فیصلہ پشاور ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس محمد اعجاز خان صاحب نے تحریر کیا ہے اور اس کو W.P NO.932-M/2021 پر پڑھا اور دیکھا جاسکتا ہے ۔


