کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ انفارمیشن کمیشن کے اراکین محمد سلیم خان اور نور محمد دایو نے بہتر نظم و نسق اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال کا دورہ کیا۔
دورے کے دوران اراکین نے اسپتال کے بجٹ، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف، ریکارڈ روم، ادویات کے اسٹور اور دیگر امور کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اسپتال کے مختلف وارڈز، سیکشنز اور میڈیکل ری امبرسمنٹ سیکشن کا بھی دورہ کیا اور فزیو تھراپی اور ڈینٹل او پی ڈی میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
انفارمیشن کمیشن کے اراکین نے اسپتال کی ویب سائٹ کے غیر فعال ہونے اور معلومات کی فراہمی کے لیے افسر مقرر نہ ہونے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور ویب سائٹ کو فوری فعال کرنے کی ہدایت کی۔ اراکین نے کہا کہ ایکٹ کے تحت تمام ضروری معلومات اپ لوڈ کرنا لازمی ہے۔
انفارمیشن کمشنر محمد سلیم خان نے کہا کہ معلومات تک رسائی ہر پاکستانی شہری کا بنیادی حق ہے، اور تمام سرکاری ادارے عوامی مفاد کی معلومات فراہم کرنے اور شفافیت یقینی بنانے کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹ کے تحت ہر سرکاری محکمے میں 16 یا اس سے اوپر گریڈ کا افسر معلومات کی فراہمی کے لیے مقرر کیا جائے۔
انفارمیشن کمشنر نور محمد دایو نے کہا کہ معلومات کی عدم فراہمی، غلط بیانی یا جان بوجھ کر چھپانا قابل تعزیر جرم ہے۔ انہوں نے سرکاری محکموں پر زور دیا کہ افسر کی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر کمیشن کو آگاہ کریں۔
دورے کے دوران اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے ریکارڈ رکھنے اور ڈاکٹرز و اسٹاف کی دستیابی کو سراہا گیا۔ میڈیکل سپرنٹینڈنٹ نے کمیشن کے احکامات کی مکمل پابندی اور اسپتال کی ویب سائٹ کو ایک ماہ میں فعال کرنے اور معلومات فراہم کرنے کے لیے افسر مقرر کرنے کی یقین دہانی کروائی۔


