کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر علی خورشیدی نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا میں 2 دن سے اپنے گھر پانی ڈلوانے کیلئے ٹینکرڈھونڈ رہا ہوں نہیں مل رہا، عوام کا کیا حال ہوگا؟”۔تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس پھر مچھلی بازار بن گیا، ارکان نے ہلڑ بازی کی، حکومت اور اپوزیشن ارکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے ارکان نے کراچی میں پانی کے شدید بحران کے خلاف احتجاج شروع کیا اور “پانی پانی” کے نعرے لگائے۔ڈپٹی اسپیکر نے ایم کیو ایم کے ارکان کو پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ پہلے “وقفہ سوالات” مکمل ہونے دیں، پھر بات کریں۔
وزیرِ داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے ایم کیو ایم کے رہنما علی خورشیدی کے سخت جملوں پر اعتراض کیا اور مطالبہ کیا کہ ان کے الفاظ کو اسمبلی کی کارروائی سے حذف کیا جائے تاکہ ماحول خراب نہ ہو۔
ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر علی خورشیدی نے کراچی میں پانی کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کراچی کا ایک ایک حصہ پانی سے محروم ہے اور شہر اس وقت “کربلا کا منظر” پیش کر رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلشنِ اقبال میں 20 دن سے اور اورنگی ٹاؤن میں 25 دن سے پانی غائب ہے، “میں خود دو دن سے اپنے گھر پانی ڈلوانے کے لیے ٹینکر ڈھونڈ رہا ہوں لیکن ٹینکر نہیں مل رہا، عوام کا کیا حال ہوگا؟”
انہوں نے مزید کہا کہ بکرا عید آنے والی ہے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔علی خورشیدی نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر حکومت نے ان کی آواز دبانے کی کوشش کی، تو وہ بھی اسمبلی میں کسی دوسرے رکن کو بولنے نہیں دیں گے۔
رہنما ایم کیو اہم نے کراچی کو پانی فراہم کرنے والی اہم ترین دھابیجی پائپ لائن کے ٹوٹنے کا معاملہ بھی اٹھایا اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوان کو یقین دہانی کرائے کہ یہ پائپ لائن کب تک ٹھیک ہو جائے گی تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔


