**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** انویسٹیگیشن پولیس سائٹ اے نے تکنیکی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے ضلع ٹھٹھہ سے لاپتہ ہونے والی **11 سے 12 سالہ بچی اقراء** کو بحفاظت بازیاب کرکے اس کی والدہ کے حوالے کردیا۔
ایس ایس پی انویسٹیگیشن ڈسٹرکٹ کیماڑی **مسرور احمد جتوئی** کے مطابق بچی **5 اگست** کو پٹھان کالونی میں واقع ایک نجی اسکول سے چھٹی کے بعد لاپتہ ہوگئی تھی۔
بچی کے لاپتہ ہونے پر اس کے اغواء کا مقدمہ تھانہ سائٹ اے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا، جس کے بعد بچی کی تلاش کے لیے فوری طور پر تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی۔
ایس ایس پی کے مطابق انسپکٹر **محمد مسعود** کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ٹیم نے CCTV فوٹیج سمیت مختلف زاویوں سے تفتیش کی اور تکنیکی ذرائع کی مدد سے بچی کا سراغ لگایا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ بچی اپنی والدہ کی جانب سے ڈانٹنے پر ناراض ہوکر اسکول سے گھر نہیں گئی تھی۔ بچی اسکول کے بعد اپنی ایک سہیلی کے گھر گئی اور وہاں سے سول اسپتال پہنچ گئی۔
پولیس کے مطابق بچی کو اسپتال میں لاوارث دیکھ کر علاج کے لیے آنے والے ایک خاندان نے ہمدردی کی بنیاد پر اسے اپنے ساتھ ضلع ٹھٹھہ میں واقع اپنے گھر لے گیا تھا۔
تفتیشی ٹیم نے تکنیکی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے ضلع ٹھٹھہ سے بچی کو بحفاظت بازیاب کرلیا۔
ایس ایس پی انویسٹیگیشن کے مطابق بازیاب بچی کو بحفاظت اس کی والدہ کے حوالے کردیا گیا ہے اور اسے مزید قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش کیا جائے گا۔
### انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ کا پہلو
**ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق** بچوں کا تحفظ اور لاپتہ بچوں کی فوری اور مؤثر تلاش ریاستی اداروں کی اہم ذمہ داری ہے۔ ایسے واقعات میں جدید تفتیشی ذرائع کے ساتھ ساتھ بچے کی سلامتی، ذہنی کیفیت، رازداری اور بنیادی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
والدین اور معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم رکھیں اور انہیں کسی بھی مشکل یا خوف کی صورت میں قابلِ اعتماد افراد سے مدد لینے کے لیے آگاہ کریں۔
**Support HRNW:** انسانی حقوق، بچوں کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**Disclaimer:** یہ خبر ایس ایس پی انویسٹیگیشن کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور پولیس کی ابتدائی تفتیش کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ واقعے کے دیگر قانونی پہلوؤں کی تفتیش جاری ہے۔ HRNW غیر جانب دارانہ صحافت اور بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے اصولوں کی پابندی کرتا ہے۔


