**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما **سید مصطفیٰ کمال** نے کہا ہے کہ ملک میں مزید انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی ضرورت ہے اور یہ عمل کسی صوبے کی تقسیم نہیں بلکہ **انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی** ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی انتظامی یونٹس کی بات کی گئی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے ان کی جماعت کے مؤقف کو تسلیم نہیں کیا، جس کے باعث اب وہ مزید انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ **کراچی 1966 تک پاکستان کا دارالحکومت** رہا اور آج شہر سندھ کی مجموعی آبادی کا تقریباً **38 فیصد** ہے، جبکہ حیدرآباد سندھ کی آبادی کا تقریباً **5 فیصد** ہے۔ ان کے مطابق اس کے باوجود کراچی کے شہری اپنے وزیراعلیٰ کے انتخاب یا تبدیلی کے حوالے سے براہِ راست اختیار نہیں رکھتے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کی جماعت نے اپنے مطالبات سے دستبرداری اختیار نہیں کی اور **”ظالموں کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے”**۔ انہوں نے مالی وسائل کی تقسیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاق پہلے ہی تمام صوبوں کو بڑی مقدار میں وسائل منتقل کرتا ہے، تاہم موجودہ نظام عوام کو بااختیار بنانے میں ناکام ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی یونٹس کا قیام **سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ انتظامی ڈویژن** ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پیپلز پارٹی نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے دوران اپنے سیاسی مؤقف کی بنیاد پر بعض آئینی تبدیلیوں کی مخالفت کی۔
### انسانی حقوق اور سیاسی نمائندگی کا پہلو
انتظامی اختیارات کی تقسیم کا معاملہ شہریوں کے **سیاسی نمائندگی، مقامی حکمرانی اور بنیادی سہولیات تک مساوی رسائی** کے حقوق سے براہِ راست جڑا ہے۔ مؤثر مقامی حکومتیں اور بااختیار انتظامی ادارے شہریوں کو اپنے علاقوں کے فیصلوں میں زیادہ مؤثر کردار دے سکتے ہیں۔
تاہم نئے انتظامی یونٹس کے قیام جیسے اہم فیصلے **آئینی طریقہ کار، عوامی مشاورت، جمہوری نمائندگی اور مساوی شہری حقوق** کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جانے چاہئیں۔ مختلف سیاسی اور علاقائی مؤقف رکھنے والے شہریوں کے درمیان مکالمہ اور پرامن سیاسی عمل ہی ایسے معاملات کے پائیدار حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
**Support HRNW:**
انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، انصاف اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی حمایت کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:**
یہ خبر سید مصطفیٰ کمال کے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں شامل سیاسی، آبادیاتی اور مالی اعداد و شمار اور دیگر دعوے مقررہ فریق کے مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق اس رپورٹ میں نہیں کی گئی۔


