7

لانگ مارچ سے استحکام نہیں آتا، عمران خان رہا ہوں تو خوشی ہوگی: شرجیل میمن

**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ لانگ مارچ سے سیاسی یا معاشی استحکام نہیں آتا، تاہم اگر سابق وزیراعظم عمران خان رہا ہوجاتے ہیں تو انہیں خوشی ہوگی۔

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سیاسی اور معاشی استحکام پاکستان کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور کسی بھی فریق کو مبینہ طور پر کسی غیر آئینی یا غیر قانونی طریقے کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔

شرجیل میمن نے لانگ مارچ کے حوالے سے کہا کہ ان کے مطابق یہ احتجاج عمران خان کی رہائی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی ماضی میں مہنگائی کے خلاف مارچ کیا، تاہم ان کے بقول اس دوران سڑکیں بند نہیں کی گئیں اور تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکن تشدد نہیں کرتا اور ہتھیار اٹھانا یا آگ لگانا سیاست نہیں۔ شرجیل میمن نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرے۔

سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ انہیں عمران خان کی رہائی پر خوشی ہوگی، تاہم ان کے بقول سیاسی معاملات کے حل کے لیے کسی ’’بیک ڈور‘‘ طریقہ کار پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

شرجیل میمن نے صحافت اور آزادیٔ اظہار کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے آزادیٔ صحافت کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بعض خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ خبر حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور کسی کی خواہش کو خبر نہیں بنانا چاہیے۔

انہوں نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے صحت، ہاؤسنگ، پبلک پرائیویٹ منصوبوں، مینگروز اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں حکومتی اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں مزید بسیں لانے کا سلسلہ جاری ہے اور ایک ہزار بسیں پائپ لائن میں ہیں جبکہ 100 بسیں آنے والی ہیں۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ اکتوبر میں وزیراعلیٰ سندھ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد چین جائے گا، جہاں 15 اکتوبر کو شنگھائی میں سرمایہ کار کانفرنس میں شرکت کی جائے گی۔ ان کے مطابق مقصد سندھ میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہے۔

موجودہ سیاسی صورتحال میں پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ کو بعد ازاں 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا تھا۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی سمیت اپنے سیاسی مطالبات کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

سیاسی احتجاج اور لانگ مارچ آئینی و قانونی دائرے میں عوامی اظہار اور اجتماع کا حصہ ہوسکتے ہیں، تاہم احتجاج کے دوران شہریوں کی نقل و حرکت، کاروبار، تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

اسی طرح سیاسی اختلافات کو پرامن اور قانونی ذرائع سے حل کرنا، تشدد سے گریز اور سیاسی کارکنوں سمیت تمام شہریوں کے قانونی حقوق کا احترام جمہوری عمل کے لیے اہم ہے۔ موجودہ احتجاجی صورتحال میں حکومت اور سیاسی جماعتوں کے اقدامات کے ساتھ شہریوں کے بنیادی حقوق کا جائزہ بھی شفاف اور غیر جانب دار انداز میں لیا جانا چاہیے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

اس خبر میں شرجیل انعام میمن کی جانب سے دیے گئے سیاسی بیانات اور سندھ حکومت کی کارکردگی سے متعلق دعوے ان کے مؤقف کے طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ ان دعووں کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں اور دیگر فریقین کے مؤقف میں اختلاف ہوسکتا ہے، جسے متعلقہ ذرائع کے ذریعے جانچا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں